حیات بشیر

by Other Authors

Page 340 of 568

حیات بشیر — Page 340

340 کے خلاف زبردست جہاد جاری رکھا۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو قرآن اور انجیل اور دیگر شواہد سے فوت شدہ ثابت کر دیا۔مگر کچھ عرصہ سے بعض احمدی بھی اس غلط فہمی میں مبتلا نظر آتے ہیں کہ گویا وفات مسیح کا مسئلہ صرف احمدیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان تعلق رکھتا ہے حالانکہ اس کا زیادہ تعلق میسحیت کے ساتھ ہے۔آپ مہربانی کر کے اپنے طلبا میں اس مسئلہ کی اہمیت سمجھانے کی بار بار کوشش فرمائیں اور مسیحیت کے مقابلہ پر طلبا کی خاص ٹریننگ کا انتظام کریں۔وفات مسیح کا مسئله در اصل دو دھاری تلوار ہے۔ایک طرف وہ غیر احمدیوں کے باطل خیالات کا قلع قمع کرتی ہے اور دوسری طرف وہ مسیحیت کے قلعے پر ایک ایسی بمباری کا حکم رکھتی ہے جو گویا ایک ہی ضرب سے مسیحیت کا خاتمہ کر دیتا ہے۔آپ ضرور اس طرف خاص توجہ دیں اور اپنے طلبا کو اس مسئلہ کی اہمیت سمجھائیں تاکہ کسر صلیب کا کام تکمیل کو پہنچ جائے۔۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں مسیحی مشنریوں نے اپنا بوریا بسترا باندھنا شروع کر دیا تھا مگر اب پھر انہوں نے کچھ عرصہ سے نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونی ممالک میں بھی سر اُٹھانا شروع کر دیا ہے۔آپ کی درسگاہ چونکہ جماعت کا آرسنل ہے اس لئے آپ کو اس طرف خاص توجہ دینی چاہیے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔“ خاکسار مرزا بشیر احمد ۶۲-۴-۲۸ عزیزم مکرم پرنسپل صاحب جامعہ احمد یہ ربوہ آپ کا مفصل خط ۶۲-۵-۲۴/ ۱۴۸ موصول ہوا۔خدا تعالیٰ کے فضل سے مسیحیت کے متعلق آپ کا نصاب اور پروگرام بہت خوب ہے۔اس میں حسب حالات توسیع ہوتی چلی جائے گی۔مسیح کی وفات کے مسئلہ پر خاص زور ہونا چاہیے نہ صرف اسلئے کہ اس سے صداقت مسیح موعود کا رستہ کھلتا ہے بلکہ اسلئے کہ مسیح کی وفات کے ساتھ ہی مسیحیت پر بھی موت وارد ہو جاتی ہے اور ایک انسان رسول سے بڑھ کر مسیح کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی اور انسان رسول کی حیثیت میں بھی کئی دوسرے رسولوں سے سے کمتر۔پس وفات مسیح کے عقیدہ کو نہ صرف قرآن مجید سے بلکہ انجیل سے اور تواریخی شواہد سے اس طرح قطعی طور پر ثابت کیا جائے کہ دنیا پر حیات مسیح کے عقیدہ کا پول کھل