حیات بشیر

by Other Authors

Page 34 of 568

حیات بشیر — Page 34

34 اخلاق اور ہمت کی بلندی کو بیان کرنے کے لئے الفاظ کہاں سے آئیں۔خدا تعالیٰ کے مقرب بندوں کی معیت وہ کیمیا ہے جو ہر قسم کی قربانی کو مسرت اور راحت میں تبدیل کر دیتی ہے۔دین کو دنیا پر مقدم رکھنا آسان کام نہیں اور ایک قوت قدسی کو چاہتا ہے۔خندہ پیشانی سے ملتے خوش ہوتے اور خوش کرتے چہرہ ہمیشہ متبسم رہتا اور آپ سے ملاقات کرنے والا خوش اور مطمئن ہوتا۔دو موقعوں کے سوا خاکسار نے آپ کو خفگی کی حالت میں نہیں دیکھا اور یہ دونوں موقعے دینی غیرت اور جماعتی نظام سے تعلق رکھتے تھے اور آپ کی بالکل برمحل اور اصلاح آفریں تھی اور وضع الشی فی محلہ کی عین مصداق تھی۔خطوں کا جواب بڑی پابندی اور باقاعدگی سے دیتے تھے۔آپ کی ڈاک بڑی کثیر ہوتی تھی۔لیکن کسی شخص کو یہ شکایت پیدا نہ ہوتی تھی کہ اس کے خط کا جواب نہیں دیا گیا۔یا بروقت نہیں دیا گیا۔خط کا جواب دینا دراصل ایک بڑی نیکی ہے لیکن بعض لوگ اس نیکی کی اہمیت سے غافل ہوتے ہیں۔اگر کسی کے خط کا جواب نہ دیا جائے تو وہ ضرور شاکی ہوتا ہے کہ اس کی تحقیر کی گئی ہے۔جو محکمہ ادارہ انجمن اخبار یا ایڈیٹر خطوں کا جواب نہیں دیتا وہ رفتہ رفتہ اپنی ساکھ کھو دیتا ہے۔خط کا جواب نہ دینے سے بہت دفعہ اپنے بیگانے ہو جاتے ہیں اور خط کا جواب بروقت ملنے سے بیگانے اپنے بن جاتے ہیں۔غرض کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے خطوں کا جواب دینے کے لحاظ سے بھی ہمارے لئے ایک اعلیٰ نمونہ قائم فرمایا ہے۔فتدبر آپ بڑے صبارو شکور تھے۔ایک شخص نے آپ کو بہت تنگ کرنا شروع کیا۔خطوں میں دھمکیاں دیں۔خاکسار سے آپ نے مشورہ کیا میں نے اینٹ کا جواب کم از کم اینٹ سے دینا چاہا اور جوابی مضمون لکھا۔لیکن میں کیا عرض کروں کہ آپ نے سختی کا جواب سختی سے دینا گوارا نہ فرمایا یہ کوہ وقار اپنی جگہ سے نہ ہلا۔آپ کے مدنظر یہ بات تھی کہ بعید کو بعید تر نہ کیا جائے بلکہ قریب لانے کی کوشش کی جائے اور صبر و تحمل کو نہ چھوڑا جائے۔میرے لئے یہ نرمی بڑی حیران کن اور سبق آموز تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ تعلیم کہ اور