حیات بشیر

by Other Authors

Page 33 of 568

حیات بشیر — Page 33

33 اور پھر کام کو رواں کر دیتے اور اس ضابطہ کی پابندی ضروری سمجھتے۔خدمت درویشاں کے سلسلہ میں بھی آپ نے ایسے مفید قواعد بنائے اور نگران بورڈ کے لئے بھی رہا۔وقس على هذا۔ایک راہ عمل تجویز فرمایا جس کے مطابق کام چلتا نگران بورڈ کے اندر آپ کے ساتھ کام کرنے کا جن لوگوں کو اتفاق ہوا ہے وہ مندرجہ ذیل باتوں کے گواہ ہیں: الف: بیماری اور کمزوری کی حالت میں بھی آپ کام کو جاری رکھتے اور ہمارے یہ عرض کرنے پر کہ آپ کمزور ہیں یا آپ کو بخار ہے لمبے عرصہ تک آپ تکلیف نہ فرمائیں۔آپ اس بات کو قبول نہ فرماتے اور کام کو اٹھانہ رکھتے بلکہ اُسے ختم کر کے ہی اٹھتے۔بیماری کی حالت میں یہ استقلال اور یہ ہمت دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ب: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی اطاعت اور فرمانبرداری آپ کو بدرجہ کمال منظور تھی اور کسی کام کے متعلق اگر حضور کی کوئی ہدایت یا اشارہ پیش کیا جاتا تو آپ من وعن اس کی تعمیل کو لازم جانتے کیونکہ آپ کو اس بات کا لمبا تجربہ تھا کہ امام کی اطاعت میں ہی برکت اور سعادت ہے۔خصوصاً وہ امام جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ سخت ذہین اور فہیم ہوگا اور مظہر الحق و العلاء کے مقام پر ہوگا۔ج: اختلاف رائے کو خندہ پیشانی سے برداشت فرماتے اور اس کی قدر کرتے اور پھر ہر ایک رائے سے عمدہ حصہ لے کر تمام آراء کو ہموار کرتے اور ایک نتیجہ برآمد فرماتے جو ایک ایسے عسل مصفی کا مصداق ہوتا جو مختلف پھولوں سے جمع کیا گیا ہو۔مال تجارت سے بڑھتا ہے اور علم بحث سے اسی طرح صحیح نتیجہ اختلاف رائے کو ہموار کرنے اور ہر رائے میں سے اچھا حصہ لے لینے سے پیدا ہوتا ہے۔لیکن خذ ما صفا۔دع ماكدر ایک آسان کام نہیں ہے اور مختلف آراء کو ہموار کرنے کے لئے بڑے حوصلے اور حکمت وسیع علم اور لمبے تجربہ کی ضرورت ہوتی ہے اور آپ میں یہ باتیں بدرجہ اتم موجود تھیں۔د: آپ کی محبت حکمت اور دانائی سے نفسیاتی اثرات پیدا ہوتے تھے اور آپ کے رفقائے کار کے اندر یہ جذبہ پیدا ہوتا تھا کہ آپ کے ساتھ کام کرنا اور مشقت اٹھانا ایک راحت ہے اور ایک نعمت غیر مترقبہ۔جو شخص اپنے طریق کار سے مشقت کو نشاط روح میں تبدیل کر دے اس کے