حیات بشیر

by Other Authors

Page 337 of 568

حیات بشیر — Page 337

337 اپنے امراء اور دیگر عہدیداروں پر تنقید کرنا ایک معمولی بات سمجھتے ہیں۔حالانکہ امراء کا تقرر امام وقت کی منظوری کے بعد ہوتا ہے اور عہدیداروں کا نظارت علیا کی منظوری کے بعد۔لہذا بالخصوص امراء پر تنقید کرنے کے معنے یہ ہوئے کہ ایسے افراد امام وقت کے مقرر کردہ عہد یداروں پر تنقید کرتے ہیں جس کے جواز کا انہیں کوئی بھی حق حاصل نہیں۔اور یوں بھی اگر دیکھا جائے تو دنیاوی اصول کے لحاظ سے بھی کسی منتخب شدہ عہدیدار پر نکتہ چینی کرنا ایک خطرناک فعل سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ یہ تو محال ہے کہ کوئی ایسا امیر ہو جس پر سو فیصدی لوگ متحد ہوں۔اور اگر انتخاب کے وقت اتفاق بھی ہو تو بعد ازاں کوئی نہ کوئی ایسی وجہ پیدا ہو سکتی ہے جس کے باعث بعض افراد کو اختلاف پیدا ہو جائے۔اس لئے اگر وہ نکتہ چینی شروع کر دیں تو امن برباد ہو جائے گا۔لہذا امن اور سلامتی کی راہ یہی ہے کہ نکتہ چینی سے پر ہیز کیا جائے اور اگر کوئی ناواجب تکلیف پہنچے تو استغفار کیا جائے۔اللہ تعالیٰ یقیناً ایسے مومن کی مخلصی کی کوئی صورت پیدا کر دے گا۔جماعت کی شیرازہ بندی کو مضبوط کرنے کی یہی ایک راہ ہے۔جسے اگر نظر انداز کر دیا جائے تو فتنوں کا ایک باب کھل سکتا ہے۔اور الفتنة اشد من القتل کی وعید ہر مومن کو ہوشیار کرنے کے لئے کافی ہے۔