حیات بشیر — Page 270
270 طالب ہے اسے دعا دے رہے ہیں۔حضرت مرزا مظفر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آپ کی وفات پر : تعزیت کے لئے جو احباب تشریف لائے ان میں سرگودھا کے ایک غیر از جماعت دوست بھی تھے۔وہ جس صاحب کے ساتھ آئے تھے انہوں نے بیان کیا کہ جب سے انہوں نے حضرت میاں صاحب کے وصال کی خبر سنی ہے انہیں اس کا شدید صدمہ ہے اور آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔یہ دوست کہنے لگے کہ میں ایک مقدمہ میں ماخوذ تھا اور بغیر کسی تعارف یا واقفیت کے ربوہ حضرت میاں صاحب کے مکان پر چلا آیا۔اندر اطلاع بھجوائی کہ میں ملنا چاہتا ہوں۔خادم جواب لایا کہ میاں صاحب فرماتے ہیں میری طبیعت اچھی نہیں۔اگر پھر کسی وقت تشریف لائیں تو بہتر ہوگا۔وہ کہنے لگے کہ میں اپنی تکلیف میں تھا۔اس لئے میں نے اصرار کیا کہ میں نے ضرور ملنا ہے۔اس کے تھوڑی دیر بعد میں نے دیکھا کہ میاں صاحب مکان سے باہر بڑی تکلیف اور مشکل سے دیوار کے ساتھ قریباً دونوں ہاتھوں سے سہارا لئے آہستہ آہستہ چلے آرہے ہیں۔وہ دوست کہنے لگے میں بہت پشیمان ہوا کیونکہ مجھے اندازہ نہ تھا کہ آپ کو اس قدر تکلیف ہے۔آکر برآمدہ میں بیٹھ گئے اور میرے حالات بڑی توجہ سے سنے اور فرمایا میں آپ کیلئے ضرور دعا کروں گا۔“ ۷۵ ایسی شدید بیماری کی حالت میں ایک غیر معروف شخص کے لئے بڑی مشکل سے باہر تشریف لانا اور پھر اس کی بات کو بڑی توجہ اور اطمینان کے سننا ہمددری بنی نوع انسان کی ایک ایسی مثال ہے جو اور جگہ بہت کم نظر آتی ہے۔دو مرتبہ تو میرا اپنا بھی تجربہ ہے کہ جب میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا تو بڑی مشکل سے دیوار کے ساتھ ہاتھوں کے ذریعہ سہارا لے لے کر باہر تشریف لائے اور سہارے سے کرسی پر تشریف فرما ہوئے اور سہارے سے اُٹھے۔آپ کی ہمدردی کے واقعات تو بیشمار ہیں۔جن میں سے چند ایک کا درج کرنا بھی کتاب کے حجم کے لحاظ سے ممکن نہیں مگر اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا ایک واقعہ عرض کئے دیتا ہوں۔۵۱-۱۹۵۰ء میں خاکسار ربوہ میں نظارت اصلاح وارشاد کے صیغہ نشر واشاعت کا انچارج تھا۔اخراجات کی زیادتی اور آمد کی کمی کی وجہ سے کافی مقروض ہو گیا تھا۔حضرت میاں صاحب کی خدمت میں دعا کی درخواست کے لئے حاضر ہوا۔جب اپنی آمد اور ضروریات زندگی کو پیش کیا تو آپ سن