حیات بشیر — Page 260
260 تھی اس لئے لوگ اپنے ذاتی مشوروں کے لئے بھی اکثر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔محترم مولانا برکات احمد صاحب راجیکی مرحوم فرماتے ہیں: دو قادیان میں ایک دفعہ خاکسار آپ سے مشورہ کرنے کے لئے آپ کے مکان پر حاضر ہوا۔آپ اس وقت اپنے مکان کے دروازے پر ایک دیہاتی سکھ باتیں کر رہے تھے۔بوجہ شدید سردرد کے آپ نے سر پر رومال باندھا ہوا تھا۔وہ سکھ دیہاتی طریقہ پر اپنے مویشیوں اور کھیتی باڑی کے متعلق بے ضرورت طویل باتیں کر رہا تھا۔لیکن آپ باوجود علالت طبع کے اس کی باتیں سن رہے تھے اور ان میں دلچسپی کا اظہار فرما رہے تھے۔تقریباً آدھ گھنٹہ تک وہ اپنی باتوں کا تکرار کرتا رہا۔لیکن آپ کے چہرہ پر ملال کے آثار پیدا نہ ہوئے۔آپ کے یہ اخلاق کریمانہ ہی تھے۔جو ایک بڑی حد تک آپ کو تمام معاشرہ میں محبوب بنانے کا موجب ہوئے۔امسال ماہ جون میں جب خاکسار ربوہ سے واپس قادیان جانے لگا تو اس وقت حضرت میاں صاحب کی طبیعت بہت علیل تھی اور ڈاکٹری مشورہ سے ملاقاتیں بند تھیں۔خاکسار واپس جانے کی اجازت حاصل کرنے کے لئے آپ کی کوٹھی پر حاضر ہوا اور رقعہ لکھ کر خادم کے ذریعہ اندر بھیجوایا۔جس میں یہ تحریر تھا کہ میں کل صبح واپس قادیان جانے کا ارادہ رکھتا ہوں اور اس کے لئے اجازت اور دعا کی درخواست کرتا ہوں۔آپ نے ازراہ نوازش اندر بلا لیا۔اس وقت آپ صاحب فراش تھے۔آپ کو بلڈ پریشر اور انتڑیوں میں سوزش کی وجہ سے بہت تکلیف تھی۔اس کے باوجود آمحترم نے مختلف باتیں دریافت فرمائیں اور خاکسار کو رخصت فرمایا۔آہ! اس وقت کیا معلوم تھا کہ اس محسن حقیقی سے اس حقیر خادم کی آخری ملاقات ہے۔آپ مجسمہ رحمت و شفقت اور وفا تھے۔آپ سے مل کر قلبی راحت اور سکون حاصل ہوتا تھا اور رُوحانیت کا چشمہ اُبل پڑتا تھا۔بیشک دن اور رات کے چکر پہلے کی طرح ہی چلیں گے۔لیکن وہ نہایت محبوب ہستی اب نہ ملے گی ھے جس سے آتی تھی شعاع امید کی آلام میں چھپ گئی آخر وہ شمع کسوت ایام میں ۱۳