حیات بشیر

by Other Authors

Page 259 of 568

حیات بشیر — Page 259

259 سے متعلق دوروں کی تفاصیل سن رہے ہیں۔افراد کے حالات دریافت فرما رہے ہیں اور اکثر ایسی باتیں بیان فرما رہے ہیں جن کا باوجود دورہ کرنے کے ہمیں علم ہی نہیں۔گذشتہ سے پیوستہ سال جون کے مہینے میں محترم مولانا قمر الدین صاحب فاضل اور خاکسار نے ربوہ سے لے کر کراچی تک کی بعض اہم جماعتوں کا دورہ کیا۔واپسی پر جب آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر ضروری کوائف بیان کئے تو آپ نے بعض افراد سے متعلق اخلاص اور ایمان کی بعض ایسی باتیں بیان کیں جن کا ہمیں علم ہی نہیں تھا۔گھنٹہ بھر برابر آپ لیٹے لیٹے حالات سنتے رہے۔آہ! اب ہمیں اتنا وقت کون دے گا؟ اور کون اس طرح محبت اور پیار اور دلچسپی سے ہمہ تن گوش ہو کر ہماری باتیں سنے گا؟ مکرم سید فضل الرحمن صاحب فیضی آف منصوری کا بیان ہے کہ جون ۱۹۲۵ء میں آپ تبدیلی آب وہوا کی غرض سے ان کے ہاں منصوری تشریف لے گئے۔مکرم نیک محمد خاں صاحب غزنوی بحیثیت خادم خاص آپ کے ساتھ تھے۔وہاں آپ کا روزمرہ کا معمول یہ تھا کہ علی الصبح نماز فجر کے بعد آپ سیر کے لئے باہر تشریف لے جاتے تھے۔پھر ناشتہ سے فارغ ہو کر تصنیف کے کام میں مصروف ہو جاتے تھے۔ہستی باری تعالیٰ کا مضمون جو بعد میں ”ہمارا خدا کے نام سے شائع ہوا وہ آپ نے منصوری میں ہی لکھا تھا۔بارہ اور ایک بجے کے درمیان کھانا تناول فرماتے اور عصر تک جوابات میں یا ملاقاتوں میں وقت صرف کرتے۔عصر کے بعد چاء نوش فرما کر شام کی سیر کر کے واپس تشریف لے آتے۔مغرب و عشاء کے درمیان کھانا تناول کر کے پھر اپنے مخصوص و دلکش انداز میں مجلسی گفتگو سے جو دینی، اخلاقی یا علمی موضوع پر ہوتی۔حاضرین کو مستفیض فرماتے۔عشاء کے بعد کچھ مطالعہ فرما کر سو جاتے۔اس روز مرہ کے پروگرام سے ظاہر ہے کہ ملاقاتوں کے لئے آپ نے عصر سے قبل کا وقت مقرر فرمایا ہوا تھا۔لیکن اگر کوئی شخص بیوقت بھی ملاقات کے لئے آجاتا تو آپ اُسے مایوس ہر گز نہیں کرتے تھے۔فیضی صاحب فرماتے ہیں: ”مجھے یاد ہے کہ ایک دن بے وقت یعنی جبکہ آپ تصنیف کے کام میں منہمک تھے۔دو مولوی صاحبان ملاقات کے لئے آگئے تو آپ ان سے بڑی خوشی سے ملے اور پورا وقت دیا۔۲۔حضرت قمر الانبیاء کا یہ عام معمول تھا کہ ہر ملاقات کرنے والے شخص سے نہایت خندہ پیشانی سے ملتے اور اس کے خاندان کے افراد کی نام بنام خیریت دریافت فرماتے اور ان کے معاملات میں گہری دلچسپی لیتے اور مفید مشوروں سے نوازتے۔آپ کی رائے بہت صائب ہوا کرتی