حیات بشیر

by Other Authors

Page 26 of 568

حیات بشیر — Page 26

26 وو بحترم جناب قاضی محمد اسلم صاحب پروفیسر و ہیڈ شعبہ فلسفہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کا تبصرہ اور حضرت ممدوح کی سیرت پر مختصر نوٹ آپکی کتاب ماشاء اللہ حضرت میاں صاحب کی پاکیزہ سیرت کے بیشمار پہلوؤں سے بھر پور معلوم ہوتی ہے) مکرمی جناب شیخ صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ کی کتاب حضرت میاں صاحب کے متعلق ماشاء اللہ زمانے کے حالات و ممدوح کی پاکیزہ سیرت کے بے شمار پہلوؤں سے بھر پور معلوم ہوتی ہے۔لیکن میرے قلب پر دو تین باتوں نے خاص طور پر نقش کیا ہے۔اللہ کرے ان اوصاف کو زندہ کرنے والے ہم میں ہمیشہ ہی پیدا ہوتے رہیں۔ان میں سے ایک تو یہ بات بہت نمایاں تھی کہ حضرت میاں صاحب نہ صرف اپنے کام کے معیار کو بلکہ اور کام بھی جو جماعت میں ہو رہے ہوتے یا مثلاً دوسروں کے سپرد ہوتے ان کے معیار کو بھی ہر وقت بلند سے بلند تر کرنے کی فکر میں رہتے۔دخل اندازی نہیں بلکہ ایک تڑپ اور خیال اور خواہش جو کام کرنے والوں کو متاثر کئے بغیر نہ رہ سکتی تھی۔ایک اور بات آپ میں یہ تھی کہ آپ بچوں اور زیر تعلیم نوجوانوں کے دلوں کو اُبھارنا خوب جانتے تھے۔میرا خیال ہے (اپنی اور اپنے بچوں کی ملاقاتوں سے اندازہ کرتا ہوں) کہ ہر ملاقاتی جو آپ سے اٹھ کر آتا ایک نئی امنگ اور نئی روشنی لے کر آتا مشکل کاموں میں بھی کسی نئی کوشش کی خواہش لے کر۔اس بات سے آپ کے ایک اور نمایاں وصف کی طرف میری توجہ جارہی ہے اور وہ یہ کہ آپ ہر کام میں راستے مقرر فرما لیتے تھے یہ بات خاص طور پر سیکھنے والی ہے۔کام کرنے والوں کے سامنے نئے نئے کام آتے رہتے ہیں۔آپ کا طریق یہ تھا اور دنیا اس کی گواہ ہے۔کچھ وقت اس کے متعلق سوچ کر اس کام کے امکانی راستے مقرر فرما لیتے۔مشورہ لینے والا جو سامنے ہوتا اسے ساتھ شامل کر کے راستے ڈھونڈ لیتے اور ان کی نشاندہی بھی کروا دیتے۔مشکل کام آسان معلوم ہونے لگتے آپ کی نظر ماشاء اللہ چاروں طرف رہتی اور توجہ ہر بات کو اس کی اہمیت اور ضرورت