حیات بشیر — Page 241
241 انجمن احمد یہ ربوہ کو رجسٹر ڈ خط کے ذریعہ توجہ دلائیں اور اس کی ایک نقل مجھے بھی بھجوا دیں۔مجھے بنگال کی جماعت سے بڑی محبت ہے کیونکہ دور کی جماعت ہے اور بڑی علم دوست جماعت ہے۔میں ان سب کے لئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اسلام اور احمدیت کا سچا نمونہ بنائے۔اور ان کے ذریعہ حق دنیا میں ترقی کرے اور وہ ان تمام نعمتوں سے حصہ پائیں جن کی خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بشارت مل چکی ہے۔میرا یہ خط جہاں جہاں مناسب ہو سنا دیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد ۲۱-۱۱-۶۰ گومضمون کے اس حصہ کے ساتھ اس چٹھی کے صرف پہلے حصہ کا ہی تعلق تھا مگر میں نے اس چٹھی کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر ساری چٹھی ہی درج کر دی ہے۔ستنکوہی ممکن ہے بعض دوست یہ خیال کریں کہ چونکہ ہم پاکستان کے ایک دور دراز علاقے میں گئے ہوئے تھے اس لئے جو چٹھی ہم لکھتے تھے حضرت میاں صاحب نور اللہ مرقدہ اپنی خاص نوازش کے پیش نظر فوراً ہی اس کا جواب عنایت فرماتے تھے۔اگر مغربی پاکستان میں ہوتے تو شاید اتنی توجہ نہ فرماتے۔یہ درست نہیں آج تک جتنے احباب سے ملاقات ہوئی ہے ایک شخص نے بھی یہ شکایت نہیں کی کہ میں نے چٹھی لکھی مگر آپ نے جواب نہیں دیا۔مقامی چٹھیوں کا بھی آپ اسی طرح تعہد کے ساتھ جواب دیا کرتے تھے جس طرح دور دراز کے ممالک سے آنے والی چٹھیوں کا۔چنانچہ لاہور ہی کا واقعہ ہے۔فروری 1911ء کے پہلے عشرہ میں اخویم محترم ملک عبداللطیف صاحب اور خاکسار آپ کی ملاقات کے لئے حضرت مرزا مظفر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کی کوٹھی واقعہ ریس کورس روڈ پر گئے۔ساتھ ایک فروٹ کی ٹوکری بھی تھی۔محترم ملک صاحب موصوف نے استاذی المکرم حضرت میر محمد اسحاق صاحب کا ایک لیکچر جو آپ نے انسان کامل“ کے نام سے دیا تھا۔اسے دوبارہ شائع کیا تھا اس کی ایک کاپی بھی آپ کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے ساتھ لے گئے تھے مگر اتفاق کی بات ہے آپ سخت تکان کی وجہ سے سو گئے تھے۔ہمیں جب علم ہوا تو ہم بغیر ملاقات کے ہی واپس آگئے۔دوسرے روز آپ کی طرف سے خاکسار کے نام حسب ذیل چٹھی آئی