حیات بشیر — Page 234
234 بھی کہا کہ حضرت میاں صاحب! آپ ضرور تشریف لاویں۔آپ نے نہایت شفقت سے فرمایا ”تم کیسی باتیں کرتی ہو۔میں انشاء اللہ ضرور آؤں گا۔میں تو تمہارا ڈاکیہ رہ چکا ہوں تو کیا آج تمہاری بہن کی شادی پر نہ آؤں گا۔“ ڈاکیہ کے لفظ میں آپ کا اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ ۷ء کے بعد قادیان سے میرے ابا جان کے خط دو تین سال تک آپ کی معرفت آتے رہے۔جس وقت خط آتا آپ فوراً بجھوا دیتے اور اکثر ایسا ہوا کہ اگر کوئی پاس نہیں ہے تو خود تشریف لاتے۔ہمارا دروازہ کھٹکھٹایا۔ہم نے پوچھا۔کون ہے؟ فرماتے بشیر احمد اور ہاتھ میں خط ہوتا کہ لو اپنا خط۔میں نے سوچا کہ جلدی پہنچا دوں تمہیں باپ کے خط کی انتظار ہوگی۔“ ہو ایک بار اپنی کمزوری صحت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ”اب طبیعت اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ بات کرنے اور ہلنے کو دل نہیں چاہتا۔ایک وہ دن تھا کہ تمہاری ڈاک خود پہنچا آیا کرتا تھا۔اللہ اللہ ! کس قدر عظیم ہستی تھی۔آپ کو دوسروں کے احساسات کا کس قدر خیال تھا۔۱۹۵۰ء کا واقعہ ہے۔ہمارے گھر کا دروزاہ کھٹکا۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ حضرت میاں صاحب ہیں۔فرمانے لگے کہ میں ایک کام آیا ہوں۔ہماری بڑی ہمشیرہ سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو خواب آیا ہے کہ حضرت نواب صاحب مرحوم تشریف لائے ہیں اور کچھ کھانے کی خواہش کی ہے۔اس لئے انہوں نے آج پلاؤ اور زردہ کی دیگیں پکوائی ہیں وہ تم کو بھجوا دی جائیں گی۔مستحقین میں تقسیم کروا ہر دینا۔لیکن اس طرح نہیں کہ لوگ ہاتھوں میں تھالیاں پکڑے ہوئے آئیں بلکہ ایک کو ٹرے (Tray) میں لگا کر بھیجوانا۔اس سال رمضان المبارک میں تعلیم القرآن کلاس کی طالبات کو لے کر ملاقات کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔آپ نے باوجود خرابی صحت کے سب کو اپنے کمرہ میں بلا لیا اور ہر ایک کے متعلق دریافت فرمایا اور تعلیم حاصل کرنے کے متعلق بہت مفید نصیحتیں فرمائیں اور پھر غیر معمولی لمبی دعا فرمائی جس سے یہ ظاہر ہوا کہ آپ کے دل میں مذہبی تعلیم کی کتنی قدر و منزلت تھی۔