حیات بشیر — Page 227
227 جونہی حضرت میاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئی پوچھتے کیا حال ہے؟ اور پھر جلدی سے الماری کھولتے۔اس میں سے ٹافیاں، چاکلیٹ، مونگ پھلی یا اور کچھ چیز عنایت فرماتے اور ساتھ ہی گھر کی خادمہ کو موسم کے مطابق شربت یا چائے لانے کا حکم دیتے۔بعض دفعہ میاں صاحب گھر پہ تشریف فرما نہ ہوتے اور میرے آنے کے بعد کہیں باہر سے تشریف لاتے تو آتے ہی محترمہ ام مظفر احمد صاحبہ سے بھی اور مجھ سے بھی دریافت فرماتے کہ کچھ چائے شربت پیا ہے یا نہیں؟ اور اتنی دفعہ دریافت فرماتے کہ مجھے اکثر شرم آجاتی۔حالانکہ اُمّم مظفر صاحبہ جو کہ خود بھی مجھے بہت عزیز رکھتی ہیں کیونکہ میری نانی اماں مرحومہ اہلیہ مرزا محمود بیگ صاحب کو بہن بنایا ہوا تھا اور سب سے بڑا رشتہ اخوت تو احمدیت کا تھا۔ہمیشہ ہی میرے جانے پر خوشی کا اظہار فرمایا کرتی تھیں۔مگر پھر بھی حضرت میاں صاحب اپنی پوری تسلی فرماتے اور یہ سلسلہ آخر تک چلتا چلا گیا۔بلکہ اب تو جب بعض دفعہ طبیعت کی کمزوری اور کام کے بعد تھکان ہوتی اور لیٹے ہوئے ہوتے تو الماری کی چابیاں از راه شفقت مجھے عنایت فرما دیتے اور ساتھ ہی بتاتے جاتے کہ فلاں فلاں چیز ہے جو دل چاہتا ہے لے لو۔۱۹۶۲ء کے جلسہ سالانہ پر بھی مشرقی پاکستان سے آئے ہوئے کیلئے مجھے عنایت فرمانے لگے تو عاجز نے حسب عادت عرض کیا کہ نہیں کوئی ضرورت نہیں تو محبت بھرے انداز سے فرمایا کہ شافی تم ابھی تک تکلف سے کام لیتی ہو۔افسوس عمر بھر کیلئے اس شفقت بھرے ہاتھ سے محروم ہو گئی ہوں۔“ ۳۸ درویشان قادیان اور ان کے متعلقین کیساتھ حسن سلوک درویشان قادیان اور ان کے متعلقین کے لئے تو اس قدر شفقت اور رافت آپ کے سینہ میں موجزن تھی کہ سخت سے سخت تکلیف اور شدید سے شدید مصروفیت کے اوقات میں بھی اگر آپ کو علم ہو جاتا کہ کوئی درویش قادیان سے آیا ہوا ہے اور وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے تو فوراً باہر تشریف لے آتے اور اگر اُٹھ کر باہر آنے کی طاقت نہ ہوتی تو اسے اندر بلا لیتے اور اس کا ہر ممکن اعزاز فرماتے۔اس کی باتوں کو بڑے غور سے سنتے قادیان کے درویشوں کی خیریت پوچھتے وہاں کے حالات دریافت فرماتے بچوں کی خیر وعافیت معلوم کرتے اور اصرار سے دریافت فرماتے کہ اگر آپ کو کوئی کام ہو یا کوئی ضرورت ہو تو بے تکلف کہیں میں انشاء اللہ پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش :