حیات بشیر — Page 204
204 اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عشق الله آنحضرت علی آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کو انتہا درجہ کا عشق تھا۔اور دراصل کو ئی شخص سچا مومن نہیں ہو سکتا جب تک اُس کے رگ و ریشہ میں محمد عربی ﷺ اور احمد قادیانی علیہ السلام کی محبت سرایت نہ کر چکی ہو اور آپ میں یہ بات اتم طور پر پائی جاتی تھی۔چنانچہ اسی جذبہ کے ماتحت آپ نے آنحضرت ﷺ کے حالات پر مشتمل اپنی مشہور کتاب "سيرة خاتم النبیین لکھی جس کے متعلق افسوس ہے کہ اپنی شدید خواہش کے باوجود بیماری اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے آپ اسے مکمل نہ کر سکے۔تاہم جس قدر لکھی جا چکی ہے وہ اسلامی مسائل میں سند کی حیثیت رکھتی ہے۔مشتمل متعلق روایات پر دوسری بے نظیر تصنیف جو آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے لکھی اس کا نام ہے ”سیرۃ المہدی“ اس کتاب کے تین حصے آپ کی زندگی میں شائع ہوئے۔دراصل آپ کا ارادہ یہ تھا کہ سیرۃ المہدی کی روایات کی روشنی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک مفصل سوانح عمری لکھیں گے۔چنانچہ آپ نے اسی ارادہ کے ماتحت ذکر حبیب پر متعدد تقاریر فرمائیں۔جو سیرت طیبہ ،در منثور، در مکنون اور آئینہ جمال کے نام سے شائع ہوچکی ہیں۔یہاں راقم الحروف اس امر کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خاکسار نے اپنی کتاب "حياة طیبہ کی تصنیف کے دوران میں آپ کی کتب سیرۃ المہدی“ اور ”سلسلہ احمدیہ سے بیحد فائدہ اُٹھایا۔غالباً یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو بیحد قبولیت عطا فرمائی۔فالحمد اللہ علی ذالک۔آپ کے فرزند اکبر حضرت صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب آپ کی آنحضرت علیہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عشق کی کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: آپ کا طریق تھا کہ گھر کی مجالس میں احادیث، نبی کریم ع کی زندگی کے واقعات اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے حالات اکثر بیان فرماتے رہتے تھے۔میرے اپنے تجربے میں یہ ذکر سینکڑوں مرتبہ کیا ہوگا۔لیکن مجھے یاد نہیں کہ کبھی ایک مرتبہ بھی نبی کریم عمل ہے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذکر سے آپ کی آنکھیں آبدیدہ نہ ہوئی ہوں۔بڑی محبت اور سوز سے یہ باتیں بیان