حیات بشیر — Page 198
198 یہ خواہش بھی آپ کی طہارت قلب اور اسلام پر فدائیت کا زبردست ثبوت ہے کہ بچپن میں یوروپین مصنف کی کتاب پڑھتے ہیں جس میں مغربی بچوں اور نوجوانوں کے کارناموں کا ذکر ہوتا ہے اور دل میں ولولہ پیدا ہوتا ہے کہ کاش مسلمان بچوں کے کارناموں کی بھی کوئی کتاب ہوتی۔اور پھر جب لکھنے کا موقعہ ملتا ہے تو سیرت خاتم النبین ﷺ جیسی زبر دست اور شاندار کتاب لکھ کر اپنے اس ارادہ کو عملی جامہ پہناتے ہیں اور جب کوئی دوسرا دوست اس مضمون پر قلم اُٹھاتا ہے تو اسے بھی سراہتے ہیں۔اللهم صل على محمد و آل محمد۔اوائل شباب کا منظوم کلام بچپن کی امنگوں اور عنفوان شباب کے پاکیزہ جذبہ کے اظہار کے بعد اب ہم آپ کے اوائل شباب کے منظوم کلام کا نمونہ قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔یہ نظم جو ذیل میں درج کی جارہی ہے۔آپ نے 1910ء میں اپنے طالب علمی کے زمانہ میں ہی کہی تھی۔سر پر کھڑی ہے موت ذرا ہوشیار ہو ایسا نہ ہو کہ توبہ سے پہلے شکار ہو زندہ خدا سے دل کو لگا اے عزیز من کیا اُس سے فائدہ جو فنا کا شکار ہو کیوں ہو رہا ہے عشق بتاں میں خراب تو تجھ کو تو چاہیے کہ خدا پر شمار ہو یادِ خدا میں تجھ کو ملے لذت و سرور بس تیری زندگی کا اسی پر مدار ہو تجھ کو اسی کا شوق ہو ہر وقت ہر گھڑی ہر دم اسی کے عشق کا سر میں خمار ہو خالی ہو دل ہوائے متاع جہان سے تجھ کو بس ایک آرزوئے وصل یار ہو یاد حبیب سے نہ ہو غافل کبھی بھی تو اس بات سے کوئی تیرا مانع ہزار ہو سینہ تیرا ہو مدفن حرص و ہوا و آز دل ترا تیری آرزوؤں کا مزار ہو جاہ وجلال دنیائے فانی لات مار گر تو یہ چاہتا ہے کہ تو باوقار ہو فکر تجھ کو روزِ جزا کی لگی ہوئی اور اس کے علم میں آنکھ تری اشکبار ہو تسکین دل تو چاہتا ہے گر تو چاہیے دل کو ترے کبھی بھی نہ اے جاں قرار ہو ایسا نہ ہو کہ تجھ کو گرائے یہ منہ کے بل ہاں ہاں سنبھل کے نفس دنی پر سوار ہو آگاہ تجھ کو تیری بدی پر کرے ضمیر ناصح ہو دل ترا نہ کہ یہ خاکسار ہو ہو طالب نگاہِ لطف کا ہوں مدتوں سے میں مجھ پر بھی اک نظر مرے پروردگار ہو