حیات بشیر — Page 194
194 درج کرنے پر کفایت کی جاتی ہے۔آپ فرماتی ہیں: ”میری ہوش میں پہلا نظارہ منجھلے بھائی کے بچپن کا مجھے بہت صاف یاد ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہیں باہر سے تشریف لائے تھے۔گھر میں خوشی کی رض لہر سی دوڑ گئی۔آپ آکر بیٹھے میں پاس بیٹھ گئی اور سب مع حضرت اماں جان بھی بیٹھے تھے کہ ایک فراخ سینہ ، چوڑے منہ والا ہنس مکھ لڑکا سرخ چوگوشیہ مخملی ٹوپی پہنے بے حد خوشی کے اظہار کے لئے حضرت مسیح موعود کے سامنے کھڑا ہو کر اچھلنے کودنے لگا۔یہ میرے پیارے منجھلے بھائی تھے۔حضرت اقدس مسکرا رہے ہیں۔دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ ”جاٹ ہے جاٹ“۔وو " دو 66 وو 6 آپ حضرت مسیح موعود کو بچپن میں ” جو کہکر مخاطب کرتے تھے۔حضرت اماں جان روکتی تھیں کہ اب تم ہو نہ کہا کرو تو حضرت مسیح موعود فرماتے " تم روکو نہیں اسکے منہ سے مجھے " تو " کہنا پیارا لگتا ہے۔" پھر ذرا بڑے ہوئے تو خود ہی ٹو“ کہنا تو چھوڑ دیا۔مگر ایسا حجاب رہا کہ تم یا آپ بھی نہ کہا یونہی بات کر لیتے مگر ٹو کی جگہ کچھ نہ کہتے۔طبیعت میں سنجیدگی اور حجاب بہت جلدی پیدا ہو گیا تھا۔بہت کم بولتے اور کم ہی بے تکلف ہو کر سامنے آتے تھے۔ویسے طبیعت میں لطیف مزاح بچپن سے لے کر اب تک تھا۔ایسی بات کرتے چپکے سے کہ سب ہنس پڑتے اور خود وہی سادہ سا منہ بنائے ہوتے۔حضرت اماں جان فرماتی تھیں کہ اول تو بچوں کو کبھی میں نے مارا نہیں ویسے ہی کسی شوخی پر اگر دھمکایا بھی تو میرا بشری ایسی بات کرتا کہ مجھے ہنسی آجاتی اور غصہ دکھانے کی نوبت بھی نہ آنے پاتی۔ایک دفعہ شاید کپڑے بھگو لینے پر ہاتھ اُٹھا کر دھمکی دی تو بہت گھبرا کر کہنے لگے۔نہ اماں کہیں چوڑیاں نہ ٹوٹ جائیں۔اور حضرت اماں جان نے مسکرا کر ' ہاتھ نیچے کر لیا۔الفضل خاص نمبر ۲۹ اکتوبر ۱۹۶۳ء صفحہ ۷) عنفوانِ شباب میں ہی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا جذبہ ایسا بابرکت وجود جس کی پیدا ئش کے ساتھ ہی سلسلہ کی تائید کے لئے نشانات ظاہر ہونے شروع ہو گئے کوئی معمولی انسان نہیں ہو سکتا۔اس کی اپنی زندگی بھی تائیدات الہیہ کا مظہر اور تقویٰ و طہارت کا پیکر ہونی چاہیے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ابھی آپ نے میٹرک ہی پاس کیا تھا کہ امر