حیات بشیر — Page 166
166۔کئی سال سے تین چار فکر پیدا کرنے والی بیماریاں بھی لاحق ہیں۔اور گو میں خدا کے فضل سے اپنی طاقت کے مطابق صبر پر قائم رہنے کی کوشش کر تا ہوں مگر دل ڈرتا ہے اور خوف کھاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی وسیع بخشش اور بیحد رحم و کرم کے باوجود بعض اوقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح دل اس دعا کی طرف مائل ہونے لگتا ہے کہ اللهم لالی ولا علی یعنی اے میرے آقا میں تجھ سے اپنے کسی نیک عمل کا اجر نہیں مانگتا مگر مجھے میری لغزشوں کی پاداش سے محفوظ رکھ اور میرا حساب کتاب برابر رہنے دے۔“ ساتھ ہی آپ نے جماعت کے مخلص دوستوں سے دو دعاؤں کی خاص طور پر درخواست کی اول یہ کہ جتنی بھی میری مقدر زندگی ہے اللہ تعالیٰ اس میں مجھے دل کا سکون اور ا کام کرنے والی جسمانی صحت اور اپنی رضا کے ماتحت مقبول خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور میرا انجام بخیر ہو۔وو دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے میری کمزوریوں کے باوجود اپنی ذرہ نوازی سے قیامت کے دن اس گروہ میں شامل فرمائے جن کے متعلق رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ میری امت میں سے بعض لوگ حساب کتاب کے بغیر بخشے جائیں گے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ اس عاجز کو حشر کے میدان میں خدا کے سامنے اپنے حساب کتاب کے لئے کھڑے ہونے کی بالکل طاقت نہیں۔ویاحی یا قیوم برحمتک استغیث و ارجوامنک خیراً یا ارحم الراحمین کیونکہ مجلس شوری کی صدارت ۴۹۴ ۲۳ / مارچ کو جماعت احمدیہ کی ۴۳ ویں مجلس مشاورت کا انعقاد ہوا۔حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت اس کی صدارت کے فرائض حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سرانجام دیے اور شوری کی تمام کاروائی آپ کی نگرانی میں ہی ہوئی۔۴۹۵ حضرت امیر المؤمنین کا ایک فیصلہ مجلس مشاورت ۱۲ ء میں نگران بورڈ کے متعلق حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی منظوری کے ساتھ یہ فیصلہ ہوا کہ نگران بورڈ کے تمام فیصلہ جات مثبت اور منفی جن میں صدر صاحب نگران بورڈ