حیات بشیر — Page 158
158 مخلص احمدی کے دل کی آواز ہونی چاہیے اور وہ شعر یہ ہے کہ ہوں گنہگار مگر ہوں تو ترا ہی بنده مجھ ناراض ترے صدقے مری جان نہ ہو یقیناً اگر ہم خدا کے بندے بن کر رہیں گے تو خدا ہمارا ہوگا اور جس کے ساتھ خدا ہو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔21۔ذکر حبیب کے موضوع پر آ پکی دوسری تقریر ۲۷ دسمبر ۶۰ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے جلسہ سالانہ پر ذکر حبیب کے موضوع پر ایک نہایت مؤثر تقریر فرمائی۔یہ تقریر جو دُر منثور“ کے عنوان سے لکھی ہوئی تھی ایک گھنٹہ پانچ منٹ تک جاری رہی۔۲ دعا کر نیوالے دوستوں کا شکریہ لاہور میں ساڑھے چھ ماہ کے طویل قیام کے بعد سیدہ ام مظفر احمد صاحبہ ۲۵ رفروری کو ربوہ واپس پہنچ گئیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ان تمام احباب کا شکریہ ادا کیا جو اس عرصہ میں ان کے لئے دعائیں کرتے رہے ہیں۔اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی توفیق دے کہ میں ان کے لئے دعا کر کے ان کے احسان کا بدلہ اتار سکوں گوحق یہ ہے کہ احسان ایسا قرضہ ہے جو حقیقتاً کبھی اتر ہی نہیں سکتا۔الا ان يشاء الله “ ۲۶۳ رکن مجلس افتاء 1ء میں مجلس افتاء کے جو اراکین حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے منظور فرمائے ان میں پہلا نام حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا رکھا۔۴۶۴ نو جوانوں کیلئے بنیادی نیکیاں مارچ ۱۹۶۱ ء کے رمضان المبارک میں آپ نے جماعت کے مقامی اور ضلعوار امیروں کو توجہ دلائی کہ وہ اپنے اپنے حلقہ کے احمدی نوجوانوں اور بچوں کو ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور اس بات کی کوشش کریں اور نگرانی رکھیں کہ ان کے اندر سچ بولنے کی عادت ، محنت و جفاکشی، دیانت و امانت ، جماعتی کاموں میں ذوق و شوق ، نمازوں اور دعاؤں میں پابندی اور تلاوت قرآن مجید کا کردار پیدا ہو۔۳۶۵