حیات بشیر — Page 147
147 حضرت امیر المؤمنین کی صحت کیلئے دُعائیں ۱۳رجون کو آپ نے حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی صحت کے لئے دوستوں کو یہ دو دُعائیں کرنے کی خاص طور پر تلقین فرمائی: ا : اذهب الباس رب الناس واشف انت الشافي لاشفاء الا شفاءك شفاء لا يغادر سقماً۔٢ : بسم الله الكافي بسم الله الشافي۔بسم الله الغفور الرحيم۔بسم الله البر الكريم۔يا حفيظ يا عزيز يارفيق اشف عبدک امیر المؤمنين) - ۳۱۸ خدام الاحمدیہ کو ہدایات جولائی ۵۹ء میں چونکہ غیر معمولی برسات کی وجہ سے پنجاب کے سارے دریاؤں میں طغیانی کے آثار نظر آ رہے تھے اس لئے آپ نے مجالس خدام الاحمدیہ کو تحریک فرمائی کہ وہ اس پر آگے آئیں اور مخلوق خدا کی خدمت کا ثواب کمائیں۔ڈوبتے ہوؤں کو بچائیں۔ملبہ کے موقعہ نیچے دبے ہوؤں کو نکالیں۔زخمیوں کو دوائیں مہیا کریں۔بھوکوں کو کھانا کھلائیں۔شکستہ مکانوں کی مرمت کریں۔مصیبت زدہ لوگوں کو حفاظت کے مقامات تک پہنچائیں اور مویشیوں اور سامانوں کو ضائع ہونے سے بچائیں اور جہاں جہاں حکومت کو یا بے یارو مدد گار لوگوں کو کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہو ان کی مدد کو فوراً پہنچیں اور اس امداد میں مذہب و ملت کا کوئی لحاظ نہ رکھیں۔۴۱۹ سوال سے بچنے کی نصیحت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی امارت کے دوران بعض لوگوں میں یہ نقص محسوس کیا کہ ان میں امداد کے لئے سوال کرنے کی عادت بڑھ رہی ہے۔اس پر آپ نے صدر صاحبان محلہ جات ربوہ کو ایک ہدایت بھجوائی جسے بعد میں الفضل میں بھی شائع کر دیا گیا۔آپ نے اس میں توجہ دلائی کہ دوست حقیقی اور اشد ضرورت کے بغیر کبھی سوال نہ کیا کریں بلکہ ایک طرف محنت کر کے حسب ضرورت زیادہ آمد پیدا کرنے کی کوشش کریں اور سستی اور بیکاری سے بچیں اور دوسری طرف جب تک خدا کی طرف سے فراخی حاصل نہ ہو اپنی ضروریات کو کم سے کم حد کے اندر محدود رکھیں۔اس طرح انشاء اللہ ان کے اخلاق میں بلندی پیدا ہو گی اور اس قناعت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کے تھوڑے مال میں ہی برکت ڈال دے گا۔۴۲۰