حیات بشیر — Page 146
146 ربوہ میں تشریف آوری ۱۲؎ فروری کو آپ لاہور میں دو ہفتہ سے زائد قیام فرمانے کے بعد ربوہ واپس تشریف لے آئے۔۲۱۴ اپنے اندر محبت کی چنگاری پیدا کرو مارچ ۵۹ء میں آپ نے اس موضوع پر کہ مسیح موعود عشق رسول کی پیداوار ہے ایک مضمون لکھتے ہوئے جماعت کو توجہ دلائی کہ ہے۔”اے میرے دوستو اور عزیز و اور پیارو! بیشک عمل بہت بڑا درجہ رکھتا ہے مگر محض خشک عمل جو محبت سے خالی ہے اور جس میں عشق خدا اور عشق رسول اور عشق مسیح کی چاشنی مفقود ہے وہ ایک بوسیدہ ٹہنی سے زیادہ نہیں جو کسی وقت ٹوٹ کر گر سکتی پس اپنے دلوں میں محبت کی چنگاری پیدا کرو۔ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی صحابی نے پوچھا تھا کہ رسول اللہ قیامت کب آئے گی۔آپ نے جواب دیا۔تم قیامت کے متعلق پوچھتے ہو کیا تم نے اس کے متعلق کوئی تیاری بھی کی ہے۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ نماز روزہ وغیرہ کی تو چنداں تیاری نہیں مگر میرے دل میں خدا اور اس کے رسول کی سچی محبت ہے۔آپ نے فرمایا المرء مع من احب یعنی پھر تسلی رکھو کہ انسان کو اپنی محبوب ہستیوں سے جدا نہیں کیا جائے گا۔یہ حدیث بچپن سے لے کر میرے سامنے قطب ستارے کی طرح رہی ہے جس سے میں اپنے لئے رات کی تاریکیوں اور دن کی پریشانیوں میں رستہ پاتا رہا ہوں۔“ ۱۵ے سيرة حضرت ام المؤمنين ۲۰ را پریل کو نماز مغرب کے بعد سیرۃ حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کے ایک خصوصی جلسہ میں جو مجلس خدام الاحمدیہ حلقہ گولبازار ربوہ کے زیر اہتمام منعقد ہوا تھا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا ریکارڈ کرایا ہوا ایک تازہ پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔ہے اڑیسہ احمدیہ کا نفرنس کیلئے پیغام ۲۵-۲۴ رمئی کو سونگھڑہ میں ساتویں آل اڑیسہ احمدیہ کانفرنس منعقد ہوئی۔اس موقعہ پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی ایک خاص پیغام ارسال فرمایا۔۷؎