حیات بشیر — Page 142
142 سیٹھ عبد اللہ بھائی کو ارشاد حضرت عرفانی صاحب کی وفات کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت سیٹھ عبداللہ بھائی صاحب امیر جماعت حیدرآباد دکن کو تحریر فرمایا کہ عرفانی صاحب نے سلسلہ کی تاریخ وغیرہ کے متعلق جو ریکارڈ چھوڑا ہو اس کی فہرست مرتب ہو جانی چاہیے اور اگر ممکن ہو تو جماعت اُسے اپنی تحویل میں لے لے کیونکہ یہ ایک قیمتی ریکارڈ ہے۔خدمت دین کی توفیق ملنے اور انجام بخیر ہونے کیلئے دُعا ۳۹۸ ء کے شروع میں آپ نے نیا سال اور ہماری ذمہ داریاں“ کے زیر عنوان ایک قیمتی مضمون لکھا اور اس کے آخر میں تحریر فرمایا کہ یہ مضمون میں نے جنوری کے آغاز میں شروع کیا تھا مگر اعصابی تکلیف اور احساس بے چینی کی وجہ سے اسے جلد ختم نہ کر سکا بلکہ آہستہ آہستہ لکھ کر اور اوپر تلے کئی دنوں کا ناغہ کر کے قریباً ایک ماہ میں آج ختم کیا ہے اور پھر بھی میری خواہش کے مطابق مکمل نہیں ہوا۔حالانکہ صحت کے زمانہ میں میں ایسا مضمون قریباً ایک گھنٹہ میں لکھ لیا کرتا تھا۔لہذا اپنے لئے بھی دوستوں سے دعا کی درخواست کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے آخر عمر تک یعنی ”زاں پیشتر که بانگ برآئید فلاں نماند خدمت دین کی توفیق دیتا رہے اور میری کمزوریوں کو معاف فرمائے اور انجام بخیر ہو۔۳۹۹ے ایک منذر کشف اوپر جس مضمون کا ذکر کیا گیا ہے اس میں حضرت میاں صاحب نے اپنے ایک کشف کا بھی ذکر فرمایا آپ نے لکھا کہ ۱۳۱ دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی رات جو نئے سال کی پہلی رات تھی مجھے ایک زلزلہ کا نظارہ دکھایا گیا۔زلزلہ بعد میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی بیماری کی صورت میں جماعت احمدیہ پر آیا۔اللہ تعالیٰ جماعت کی دعاؤں کو قبول فرما کر حضور کو جلد صحت کاملہ و عاجله عطا فرمائے۔جماعت احمدیہ برہمن بڑیہ کو پیغام جماعت احمدیہ براہمن بڑیہ نے جو کہ مشرقی پاکستان کی سب سے پرانی جماعت ہے ہے ۱۷-۱۶ فروری ۵۸ ء کو اپنا بیالیسواں سالانہ جلسہ منعقد کیا۔اس موقعہ پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی جماعت کو ایک پیغام بھجوایا۔