حیات بشیر — Page 135
135 اور سلسلہ کے استحکام اور حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی صحت کیلئے اجتماعی دعاؤں کا سلسلہ جاری ہوا۔۳۶۸؎ مقامی امیر ۲۸ فروری کو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ربوہ سے لاہور تشریف لے گئے۔مقامی امیر حضور نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو مقرر فرمایا۔۳۶۹ے مسافروں کی خبر گیری ۲۶ اپریل کو چناب ایکسپریس جب ربوہ پہنچی تو اس کا انجن خراب ہوگیا اور گاڑی کو دوسرے انجن کے آنے کا انتظار کرنے میں کافی وقت ٹھہرنا پڑا۔چونکہ شام کا وقت تھا اس لئے امیر مقامی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی ہدایت کے ماتحت جملہ مسافران کو برف کا ٹھنڈا پانی اور کھانا مہیا کیا گیا۔نیز بچوں اور مستورات کے لئے پندرہ میں سیر کے قریب دودھ کا انتظام کیا گیا اور پوری کوشش کی گئی کہ کوئی مسافر بھوکا نہ رہے۔۳۷۰ے درس القرآن ۲۶ رمئی ۵۶ ء کو رمضان المبارک میں درس قرآن مجید کے اختتام پر مسجد مبارک ربوہ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے قرآن کریم کی آخری دو سورتوں کا درس دیا جس کے بعد نہایت گریہ وزاری اور الحاح کے ساتھ دعا کی گئی۔اسے تبلیغ کے چار سنہری گر مئی ۵۶ء میں اخبار آزاد نوجوان" مدراس کی خواہش پر آپ نے تبلیغ کے چار سنہری گر کے زیر عنوان ایک نہایت قیمتی مضمون لکھا جو بعد میں ”الفضل“ میں بھی شائع ہوا۔۳۷۲؎ صحابہ کی جگہ لینے کی کوشش کرو ان ایام میں مختلف عوارض سے آپ کی طبیعت ناساز رہی۔آپ بیماری سے ذرا اچھے ہوئے تو آپ نے ایک مضمون میں تحریر فرمایا کہ میں اپنی بیماری میں کئی دفعہ سوچتا رہا ہوں کہ حضرت مسیح موعود ال کے پرانے صحابہ اب صرف خال خال رہ گئے ہیں جنہیں کسی معمولی سے معمولی بیماری یا معمولی سے معمولی حادثہ کا دھکہ اس عالم ارضی سے عالم بالا کی طرف منتقل کر سکتا پس میں نے ارادہ کیا کہ مجھ میں کچھ طاقت آئے تو میں جماعت کے نوجوانوں کو تحریک کروں کہ وہ اپنے اندر تقویٰ اور دعاؤں کی عادت پیدا کر کے گذرنے والے ہے۔