حیات بشیر

by Other Authors

Page 107 of 568

حیات بشیر — Page 107

107 جلسہ ہوشیار پور ۲۰ فروری ۴۴ ء کو ہوشیار پور میں حضرت خلیفتہ اہسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی اپنے دعوئی مصلح موعود کے متعلق جب تقریر فرما چکے تو حضور اس مکان میں تشریف لے گئے جس کے ایک حصہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۸۶ء میں چلہ کشی فرمائی تھی اور پھر اس کمرہ میں دعا کے لئے تشریف لے گئے۔جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چالیس روز قیام فرما کر خاص عبادت میں اپنا وقت گزارا تھا۔اس کمرہ میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس وقت ۳۵ اصحاب کو دعا کرنے کا موقعہ ملا جنہیں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک ایک کر کے انتظام کے ساتھ اندر بھجوایا۔ان ۳۵ اصحاب میں حضور کی ہدایت کے مطابق سرفہرست حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا اسم گرامی درج تھا۔۲۶۲ صدر کالج کمیٹی مجلس مشاورت ۴۳ء میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالی نے قادیان میں ایک احمدیہ کالج کے اجراء کی تحریک فرمائی تھی۔جس کے نتیجہ میں کئی ہزار روپیہ نقد اور وعدوں کی صورت میں ان گنتی کے احباب سے ہی جمع ہوگیا جو اس وقت اجلاس میں موجود تھے۔اسکے بعد حضور نے کالج کے کام کو کامیابی کے ساتھ سرانجام دینے کیلئے ایک کمیٹی قائم فرما دی جسکے صدر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور سیکرٹری مکرم ملک غلام فرید صاحب ایم اے مقرر ہوئے۔ان ایام میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے صدر کالج کمیٹی کی حیثیت سے الفضل میں کالج کیلئے بعض تحریکات بھی فرمائیں۔وقف جائیداد ۱۳ ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اسلام اور احمدیت کے لئے اپنی تمام جائیداد وقف کرنے کی تحریک فرمائی تو اس میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی حصہ لیا اور آپ نے اپنی تمام جائیداد خدمت اسلام کے لئے وقف کر دی۔۲۶۴؎ دعوت ولیمہ اسی سال حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے سیدہ مہر آپا سلمہا اللہ تعالیٰ سے شادی کی تو حضور نے ۱۴ اگست ۴۴ ء کو ڈلہوزی سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو تار ارسال فرمایا کہ میری طرف سے مسجد مبارک میں پچاس اصحاب کو بلا کر دعوت ولیمہ کر دیں۔دعوت میں ۵۰ اصحاب کی حد بندی گورنمنٹ کے اس قانون کیوجہ سے اختیار کی گئی تھی کہ کسی دعوت میں ۵۰ سے زیادہ اصحاب کو