حیاتِ بقاپوری — Page 90
حیات بقا پوری 90 غیر مبائع تھے۔میرے لیے بھی ارشاد تھا کہ راولپنڈی سے ساتھ ہو جاویں۔چنانچہ ہم ایبٹ آباد پہنچے تو شیخ نور احمد صاحب وکیل نے ہمیں یہ مختصر جواب دیا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خواجہ کمال الدین صاحب کی وجہ سے مانا تھا۔اب بھی اگر خواجہ صاحب میاں صاحب کی بیعت کرلیں تو میں بھی کرلوں گا۔جب مولوی محمد یجی صاحب کے پاس بات چیت کرنے کے لیے پہنچے تو وہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب کو بات ہی نہ کرنے دیتے تھے اور جب وہ بولنے لگتے تو اُن کے منہ پر ہاتھ رکھ دیتے کہ آپ ہمارے بزرگ ہیں آپ نہ بولیں۔اور اسی طرح حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کے منہ پر اور میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیتے کہ آپ بزرگ ہیں آپ نہ بولیں۔اُس دن میں نے رَدُّوا أيدهم في اخو امیم (۱۰:۱۴) کا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔کیا حضرت عیسی" نے پنگھوڑے میں بات کی؟ ایک دفعہ ایک غیر احمدی مولوی جو اپنے آپ کو بہت بڑا عالم خیال کرتا تھا مجھے کہنے لگا کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے پنگھوڑے میں بات کی ہے۔اس کا ثبوت میں قرآن کریم سے دوں گا۔چنانچہ اس نے یہ آیت پیش کی فاحت یہ قومها حمله (۲۸:۱۹) اور جمیل اور فی المحمد ان دونوں لفظوں سے استدلال کیا کہ اُن سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا شیر خوارگی میں کلام کرنا ثابت ہے۔میں نے کہا رنا ثابت ہے۔میں نے کہا تحمل کے معنے سواری پر چڑھانے کے ہیں نہ کہ گود میں اٹھانے کے جیسا کہ قرآن کریم میں آیا ہے کہ جنگ تبوک میں شامل ہونے کے لیے بعض غریب صحابہ کے پاس سواری کے جانور نہ تھے اور وہ حضور کے پاس آئے تا کہ آپ سواری مہیا کریں۔اس موقعہ پر یھم کے الفاظ ہیں۔پس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مریم جب حضرت عیسی علیہ السلام کو قوم کے پاس لائی ہیں تو اُن کو سواری پر بٹھایا ہوا تھا اور آپ پیدل تھیں اور مھد کے لفظ کی تشریح مییا نے کر دی اور صیا کے معنے قرآن کریم کی دوسری آیت سے ظاہر ہیں جہاں حضرت بیچی کا ذکر ہے۔کہ انہیں جوانی کے زمانہ میں نبوت مل گئی تھی جیسا کہ فرمایا کا یہ حکم میا (۱۳۱۹)۔-۲۹ اولیاء اللہ کا سلسلہ جاری ہے ۱۹۲۴ء کا واقعہ ہے کہ سندھ میں دوسندھی میرے ساتھ سکھر سے گاڑی پر سوار ہوئے دوران گفتگو میں کہنے لگے کہ جس شان کے اولیاء اللہ پہلے زمانہ میں ہوتے تھے اب نہیں ہوتے۔میں نے کہا کس طرح کے اولیاء اللہ؟ کہنے لگے جیسے پیرانِ پیر بغداد میں۔نظام الدین اولیاء دہلی میں۔اور لال بادشاہ اور شاہ عبداللطیف بھٹائی سندھ