حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 79 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 79

حیات بقاپوری 79 غیر احمدی کہتے ہیں کہ یہ جن ہے۔فلاں کو بلاؤ کہ وہ اُسے نکالے۔ہم کہتے ہیں کہ ہم جنوں کے قائل نہیں۔ہم احمدی ہیں۔یہ وہم ہی وہم ہے۔لیکن دو تین دن بعد میرے ایک ہی تیرہ چودہ سالہ لڑکے کو بھی یہ نظارہ دکھائی دینے لگا۔اُسے بھی میں سمجھا تا رہا۔آخر وہ بھی چوتھے دن مردہ پایا گیا۔اب کل سے مجھے بھی وہی شکل نظر آنے لگی ہے۔اور وہ کہتا ہے کہ یہ جگہ میری ہے اور میں سکندر جگہ یو اس کا مالک ہوں۔تم مکان سے نکل جاؤ و گر نہ تم کو بھی مارڈالوں گا۔حضور ہمارے لیے دعا فرما دیں اور کسی ایسے بزرگ کو بھیجیں جو ہمیں کچھ پڑھنے کے لیے بھی بتلائے اور دعا بھی کرے۔میں اُسی وقت حضور کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور گذارش کی کہ حضور میں جمعہ سے پہلے جن نکالنے چلا جاؤں یا جمعہ کے بعد ؟ آپ نے فرمایا جمعہ کے بعد جائیں۔میں نے کہا کہ میں جو عرض کرنی چاہتا ہوں مسجد میں ہی عرض کرلوں گا۔حضور خطبہ کے لیے منبر پر تشریف فرما ہوئے تو میں نے عرض کی کہ میں جا کر کس طرح جن نکالوں؟ آپ نے فرمایا میں کیا کہوں۔جس طرح مرضی ہو جا کر نکالیں۔میں نے عرض کی جنوں کی حقیقت تو حضور پر عیاں ہی ہے۔آپ نے فرمایا یہ ایک وہم ہے جو بڑھتے بڑھتے حقیقت اختیار کر لیتا ہے۔آپ جائیں اور جا کر دعا ئیں کریں اور ظاہری تدبیر جو مناسب سمجھیں وہ بھی کریں۔میں بھی آپ کے لیے دعا کرتا رہوں گا۔چنانچہ میں چوہدر یوالہ تحصیل بٹالہ میں مستری دین محمد صاحب کے گھر پہنچ گیا۔مستری صاحب جنوں کی ہیبت سے بہت خوفزدہ تھے اور ان کے دل میں جنوں کا ڈرگھر کر گیا ہوا تھا۔وہ مجھ سے دیر تک اس جن کے متعلق باتیں کرتے رہے جو ان کے گھر آتا تھا۔انہیں اس بات کا بہت شکوہ تھا کہ لوگ اس سارے واقعہ کو وہم قرار دیتے ہیں حالانکہ ان کے دیکھتے دیکھتے ہی ان کی ایک جواں سال لڑکی اور ایک لڑکا اسی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔میں نے ان کے ساتھ اتفاق کیا کہ جن تو واقعی موجود ہے اور ساتھ ہی یہ تسلی دی کہ میں جن کو اللہ کے فضل سے نکال دوں گا۔کچھ وقفہ کے بعد ہم پھر اسی موضوع پر باتیں کرنے لگے۔وہ مجھے بتاتے رہے کہ میں نے لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم کا ورد بھی کیا ہے اور اسی طرح اور بھی کئی ورد کئے ہیں لیکن یہ جن نہیں نکلا۔اس پر میں نے ان سے کہا کہ یہ جن شیطانوں میں سے ہے کیا اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم کا بھی ورد کیا ہے یا نہیں؟ تو اس پر وہ خوب چونکے اور کہنے لگے کہ اس کا درد تو نہیں کیا۔اس پر میں نے پورے زور سے انہیں یقین دلایا کہ اعوذ باللہ کا ورد کرنے سے یہ جن ضرور دور ہو جائے گا۔چنانچہ اس سے ان کی کچھ ڈھارس بندھی۔اس کے بعد میرے دریافت کرنے پر انہوں نے