حیاتِ بقاپوری — Page 72
حیات بقاپوری 72 ہر پندرہ بیس منٹ کے بعد کہتے کہ یہی لا الہ الا للہ کی صیح تفسیر ہے لیکن کسی مرید نے اس عرصہ میں لا الہ الا اللہ کی آواز نہ نکالی اور خاموشی سے سنتے رہے ( یہ لوگ ہر دو چار منٹ کے بعد لا الہ الا اللہ کا ذکر کرنے کے عادی ہیں)۔قریباً تین گھنٹہ کے بعد وہی خلیفہ آیا اور پیر صاحب کے کان میں کچھ کہہ کر چلا گیا۔تھوڑی دیر بعد پھر آیا تو پیر ذکری صاحب نے مجھے کہا کہ حضور آپ نے بہت حقائق اور معارف سُنا کر مجھے محفوظ کیا ہے اب آپ کھانا کھالیں۔اس کے بعد وہ جلسہ سالانہ کے متعلق دریافت کرتارہا اور میں بتا تا رہا۔پھر ہم اُٹھ کر کھانے کے لیے گئے تو دیکھا کہ میرے لیے انہوں نے ایک طباق میں مرغا پکا کر رکھا ہے اور ایک میرے دوسرے ساتھیوں کے لیے۔پھر ظہر کی نماز کے بعد ہم نے اجازت چاہی۔اس نے کہا کہ جلسہ سالانہ پر میں نہیں آسکوں گا پیر ہونے کی وجہ سے مجھے حجاب ہے۔ہاں بعد میں حاضر ہو کر آپ کے خلیفہ صاحب کی زیارت کروں گا۔مجھے بہت شوق پیدا ہوا ہے کہ آپ کے پیر کی زیارت کروں۔جب ہم رات کو ٹنڈو مراد علی پہنچے تو اس جگہ بہت چر چائنا کہ یہ خلیفہ قادیانی بہت بڑا پیر ہے جس نے پیر ذکری کو چار پائی سے نیچے گرا دیا۔۲۷۔تلاوت قرآن پاک کی برکت میں جوانی میں پورا قرآن کریم تین روز میں ختم کیا کرتا تھا۔اس کے بعد سات روز میں ختم کرنا شروع کیا۔پھر دس روز میں۔پھر پندرہ روز میں۔پھر ایک ماہ میں یعنی ایک پارہ روز۔اور اب تو بڑھاپے کی وجہ سے زیادہ نہیں پڑھا جا سکتا صرف آدھ پارہ روزانہ تلاوت کر لیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس تلاوت کی برکت سے اتنا عبور ہو گیا ہے کہ اگر دوسرا آدمی تلاوت کر رہا ہو تو وہ حصہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ فلاں آیات فلاں پارہ میں ہیں۔گو حافظوں کی طرح مسلسل نہیں پڑھ سکتا۔۷ 1917ء کا واقعہ ہے کہ ایک بار حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی نظارت تعلیم و تربیت کی طرف سے بھیرہ رمضان شریف میں قرآن کریم سنانے کے لیے بھجوائے گئے۔میں بھی اُن دنوں نظارت دعوت و تبلیغ کی طرف سے وہاں پر موجود تھا۔ایک دن حافظ صاحب کا قرآن سننے کے لیے دوسرے حافظ صاحب نہ آئے تو حافظ صاحب نے کہا کہ قرآن کریم کا اعادہ کرنا تھا۔میں نے کہا آپ مجھے سنائیں۔کہنے لگے ناظرہ خواں غلطی نہیں نکال سکتے۔میں نے کہا سنا ئیں تو سہی۔چنانچہ حافظ صاحب نے ابتداء ہی میں سہو کیا تو میں نے کہا یہ آیت تو فلاں موقعہ کی ہے۔حافظ صاحب حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ کو تو