حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 71 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 71

حیات بقاپوری 71 رکھے ہوئے ہیں اور سر پر چاندی کا خول چڑھا ہوا کلاہ پہنے تھا، اور مجھے ٹکٹکی باندھ کر توجہ کرنے لگا۔میں نے بھی مشکی باندھ کر اس پر دو تین منٹ ہی توجہ کی تھی کہ اس نے نظر نیچی کر لی۔میں سمجھ گیا کہ میں غالب آگیا اور اس نے سمجھ لیا کہ میں مغلوب ہو گیا ہوں۔وہ سب سے معانقہ کرتے ہوئے میرے قریب آیا تو میں اُٹھ بیٹھا۔میں نے قوت ارادی کو جمع کر کے توجہ اس پر ڈالی اور ساتھ ہی دعا بھی کی۔جب اس نے مجھ سے معانقہ کیا تو دل کی ضرب میرے دل پر لگانے لگا۔لیکن جب اُس کی چھاتی میری چھاتی سے لگی تو میں نے محسوس کیا کہ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔وہ بے ہوش ہو کر چار پائی پر گر گیا۔پھر اس نے اپنے آپ کو سنبھالا اور سندھی میں کہنے لگا سائیں دو یہو" یعنی حضرت بیٹھئے۔میں نے سندھی میں جواب دیا میں نہیں بیٹھوں گا بلکہ کھڑا رہوں گا۔اس نے سندھی میں پوچھا کہ کیوں حضرت؟ میں نے کہا کہ میں کشفی طور پر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوا ہوں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی مجلسوں میں بھی حاضر ہوا ہوں اور موجودہ امام حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز کی خدمت میں رہا ہوں اور اُن کے برابر بیٹھتا رہا ہوں۔اب اگر میں نیچے بیٹھوں اور آپ او پر ہوں تو ان بزرگوں کی ہتک ہوتی ہے۔میرا یہ کہنا تھا اور کچھ توجہ کا اثر اس پر پہلے سے ہی تھا، اس نے اٹھ کر ہاتھ جوڑے اور کہا کہ حضرت میں نے آپکی شان کو نہیں پہنچانا۔اور اتر کر نیچے بیٹھ گیا۔میں نے اصرار کر کے اُسے غالیچہ پر بٹھایا۔اس بات کو دیکھ کر اس کے مریدوں نے بہت برا منایا کہ اس نے پیر کو نیچے بٹھا دیا۔پھر میں نے اس کو تبلیغ کرنی شروع کی۔چونکہ وہ صوفی تھا اس لیے میں نے اسے تصوف کے رنگ میں پیغام حق پہنچایا۔کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی مزاج عاشقانہ اور معشوقانہ بنائے ہیں۔نیز یہ کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اس کی صفت رحمانیت اور رحیمیت کا جلوہ نظر آرہا ہے۔اور ان صفات کے ظہور سے پہلے اپنی صفت ربوبیت کے ماتحت انسان کو پیدا کیا۔پھر رحمانیت کے ماتحت رسولوں اور نبیوں کو بھیجا۔اور جن لوگوں نے وَالَّذِينَ جَاهِدُ وَ افِيها لحد يتم سیگنا (۷۰:۲۹) کے ماتحت حق کو قبول کیا ان پر اپنے روحانی جسمانی انعامات صفت رحیمیت کے ماتحت کئے۔اور مخالفین انبیاء ورسل کو اپنی صفت مالکیت کے ماتحت اسی دنیا میں خائب و خاسر رکھا اور اپنے پیاروں کی آنکھوں کے سامنے نابود کیا۔اور یہ سلسلہ ارسال رسل وخلفائے رسل قیامت تک جاری ہے کیونکہ یہ چاروں صفات دائی ہیں معطل نہیں۔اسی طرح صفت تکلم بھی ابدی صفت ہے جس کے ماتحت وہ اپنے پیاروں سے کلام کرتا، ان پر اپنی مرضی ظاہر کرتا اور انہیں اخبار غیب پر آگاہی بخشتا ہے وغیرہ وغیرہ۔اور اس طرح تین گھنٹے مسلسل تقریر کرتا رہا۔پیر صاحب