حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 66 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 66

حیات بقاپوری 66 ہے جو منہ سے تو محض جھوٹ اور فریب سے دوست ہونے کا اقرار کرتے ہیں لیکن دل میں اسلام کے دشمن اور بدخواہ ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے چونکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں اس لیے سزا کے طور پر ان کی بیماری کو بڑھا دیا جاتا ہے۔آپ اپنے ڈاکٹر پریزیڈنٹ سے پوچھ لیں کہ جو مریض بد پرہیزی کرے گا اس کی بیماری بڑھتی جائے گی۔کیونکہ الہی قانون ہے کہ جو مریض پر ہیز نہ کرے اس کی مرض میں ترقی ہو جاتی ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے یہ قانون بنایا ہے جو فطرت اور عقل کے عین مطابق ہے۔اس لیے مقنن ہونے کی وجہ سے بیماری بڑھانے کا فعل اسکی طرف منسوب کیا ہے: که بد پر ہیز بیمارے نہ بیند روئے صحت را آخر میں نے کہا کہ آپ کو اپنی بیماری بیان کرنی ہوگی۔اس کے بعد میں نیچے بیٹھنے لگا تو سب پہلوان جو وہاں جلسہ سننے آئے تھے۔انہوں نے میرے پاس آکر کہا کہ آپ چل کر مولوی عبدالحق والی کرسی پر بیٹھیں آپ کا حق ہے۔وہ تو اسلام کو ذلیل کرانے لگا تھا۔چنانچہ مجھے کرسی دی گئی اور لوگ چھتری لے کر مجھ پر سایہ کرنے لگے۔اس کے جواب میں شانتی سروپ نے کہا کہ یہ مولوی صاحب کے اپنے معنے ہیں تفسیروں میں اس طرح نہیں لکھا۔اسی مضمون کی بعض اور آیات بھی ہیں۔جیسے نکم اللہ علی کو بھیم (۸:۲) وغیرہ۔اس طرح کی باتیں کر کے بیٹھ گیا۔میں اُٹھا اور کہا کہ افسوس ! شانتی سروپ نے اپنی بیماری اور نسخہ نہیں بتلایا۔شاید یہ بھول گئے ہونگے۔میں ان کو وقت دیتا ہوں یہ سوچ کر اور یاد کر کے بتلائیں۔اس پر پھر شور اور نعرے بلند ہوئے۔نیز میں نے کہا کہ شانتی سروپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔اس نے تو خود کہا کہ میں تغییروں کی بات نہیں مانوں گا۔قرآن کی مانوں گا۔قرآن سے جواب دیا جائے۔اب قرآن سے ہی اس اعتراض کا جواب سنو۔کم اللہ علی کو بیٹھے پہلے ان اله من كر وسوا عليهم و آمد فهم أم لم يد رقم لايؤمنون (۷:۲) میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ جو لوگ ایسے صدی کا فر ہیں۔کہ باوجود ڈرانے کے نہیں ڈرتے ، حقیقت واضح کر دینے اور سمجھانے کے نہیں سمجھتے ، ان کے اس فعل کی سزا یہی تھی کہ ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی کہ وہ سمجھ نہیں سکتے۔ان کی آنکھوں کے آگے پر دے آگئے کہ سچائی کے نشانات اور واضح آیات اور معجزات دیکھ کر نہیں دیکھ سکتے۔آپ کے پریزیڈنٹ ڈاکٹر بندیال صاحب ہیں۔ان سے پوچھ لو کہ جب کوئی شخص آنکھوں سے دیکھنے کا کام لینا چھوڑ دے بلکہ ان کو بند ہی رکھے تو کیا دو تین مہینے کے بعد وہ نا بینا نہ ہو جائے گا اور اس کی آنکھوں میں پھولا جالا اور دھند نہ پڑ جائے گی۔اسی طرح اگر کوئی اپنے کانوں میں روئی