حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 52 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 52

حیات بقا پوری 52 66 خود فرمایا ہے کہ ”دینی اختلاف بڑا دیر پا ہوتا ہے تو کیا حضرت علی کرم اللہ وجہ کی خلافت میں اختلاف کے باعث ہم انہیں نعوذ باللہ غاصب کہتے ہیں؟ حالانکہ مسلمانوں کے اُس وقت سے دو ٹکڑے ہو گئے۔باوجود اس کے ہم اور آپ دونوں حضرت علی کرم اللہ وجہ کی خلافت حقہ کے قائل ہیں۔پس آپ کا قول کہ جس کی خلافت پر اختلاف ہو وہ ناحق پر ہوتا ہے، درست ثابت نہیں ہوتا۔کہنے لگے ہاں یہ جو آپ نے کہا ٹھیک ہے۔میں نے کہا اس اختلاف سے ہمیں ایک اور بات معلوم ہوئی کہ کسی خلیفہ کے وقت جو اختلاف ہوتا ہے وہ دو طرح کا ہوتا ہے۔اگر خلیفہ اہل بیت سے نہ ہو تو اختلاف خفیف ہوتا ہے اور اگر خلیفہ اہل بیت سے ہو تو اختلاف شدید نوعیت کا ہوتا ہے۔حتی کہ جماعت کے دو ٹکڑے ہو جاتے ہیں جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہ کی خلافت کے وقت ہوا جو آپ کے چچا زاد بھائی اور داماد بھی تھے۔اور پھر دوبارہ اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ایسا ہی ہوا۔جب کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جو اہل بیت سے نہ تھے معمولی سا اختلاف ہوا اور بعض لوگ صرف بیعت سے رک گئے مگر چونکہ حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ اہل بیت سے ہیں۔اُن کے وقت اس قدر شدید اختلاف ہوا کہ جماعت دوٹکڑے ہوگئی۔اور ہم تو اسوہ ء صحابہ کے مطابق اصحاب علی بن گئے۔اب آپ کو کیا سمجھیں؟ کہنے لگے۔ہم حضرت طلحہ، زبیر اور حضرت عائشہ کے ساتھی ہیں۔میں نے کہا مولوی صاحب اگر میں کہوں کہ فلاں فلاں امام نے لکھا ہے کہ ان تینوں بزرگوں نے بعد میں بیعت کر لی تھی تو آپ اس سے اختلاف کریں گے؟ اس لیے اس کو چھوڑتے ہوئے میں کہوں گا کہ ان کا اختلاف مسئلہ خلافت میں نہ تھا۔وہ خلافت کے تو قائل تھے صرف حضرت علی سے ان کو اختلاف تھا۔مگر آپ تو خلافت کے ہی منکر ہیں۔پس یا تو آپ اعلان کریں کہ ہم خلافت کے قائل ہیں صرف میاں صاحب سے اختلاف ہے۔پھر ہم دیکھیں گے کہ جو وجوہ آپ اختلاف کے پیش کرتے ہیں وہ درست ہیں کہ نہیں۔یا پھر اعلان کریں کہ خلافت برحق ہے اور اگر خلافت برحق خیال کرتے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پہلے خلیفہ حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دفن ہونے سے پہلے (جنہیں آپ چھ سال خلیفہ مانتے رہے ہیں) آپ کو کسی ایسے خلیفہ کے ہاتھ پر اُسوہ صحابہ کے مطابق بیعت خلافت کرنی چاہیے تھی۔حالانکہ آپ ایک سال سے بلا بیعت زندگی گزار رہے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو بغیر بیعت چلا جائے وہ مواخذہ خداوندی کے نیچے ہے۔کہنے لگے کہ بیچ ہے وہ خلافت کا زمانہ تھا کیونکہ وہ خلافت علی منہاج النبوہ تھی۔لیکن حضرت مرزا صاحب نبی نہ تھے اور آنحضرت صلی