حیاتِ بقاپوری — Page 383
حیات بقاپوری 383 پہلے ریٹائرڈ ہو جائے گا اور دوسرے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کی جڑ کاٹ دی جائیگی۔یعنی وہ فوت ہو جائیگا۔یہ جواب بڑا ہی عجیب و غریب اور حیران کن تھا۔چنانچہ وہ افسر جس نے فوت ہوتا تھا وہ پشاور کے نزدیک ایک گاؤں جب کال بالا کا رہنے والا تھا اور پشاور یونیورسٹی ٹاؤن میں سب سے بڑے بنگلہ کا مالک تھا۔ان دنوں وہ بنوں میں ایس ای پی ڈبلیو تھا۔۱۹۶۲ء میں جب ملکہ برطانیہ پاکستان خیر سگالی کے دورے پر پشاور بھی آئیں تو میں پشاور میں تھا۔تو وہ افسر بھی بنوں سے پشاور آیا۔رات کو وہ پشاور آفیسر ز کلب میں سویا اور سوتے میں دل کا دورہ پڑا اور فوت ہو گیا۔چنانچہ حضرت مولانا بقا پوری صاحب کی پیشگوئی کا ایک حصہ پوری شان و شوکت سے پورا ہو گیا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں سے ہم کلام ہوتا ہے اور بندوں کی دادری کرتا ہے اور اپنے نیک بندوں کے ذریعہ دنیا پر اپنی پیش گوئیاں ظاہر کرتا ہے۔اس زمانہ میں یہ سب کچھ حضرت مسیح موعود کے طفیل ہے۔اب میں حضرت مولا نا بقا پوری صاحب کی پیش گوئی کے دوسرے حصہ کی طرف آتا ہوں۔دوسرا افسر جس نے ریٹائر ہونا تھا۔ایک اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔اس زمانے میں ۱۹۴۰ ء سے پہلے انگریزوں کی حکومت کے دوران وہ انگلینڈ میں انجینیئر نگ کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ہمارے محکمہ میں بھرتی ہو گیا اور ترقی کرتے کرتے صوبہ سرحد کا بلند ترین افسر یعنی چیف انجینیئر بن گیا۔وہ میرا بدترین دشمن تھا اور جب بھی اسے موقعہ ملتا وہ مجھے نقصان پہنچانے میں کمی نہ کرتا۔ریٹائر تو ہر سرکاری کا رکن نے اپنے وقت میں ہوتا ہوتا ہے۔لیکن اس افسر کی ریٹائرمنٹ میں اللہ تعالیٰ کا ایک خاص نشان ظاہر ہوا کہ جب اسکی عمر اٹھاون (۵۸) برس تھی تو اسکے ریٹائر منٹ کے احکامات جاری ہو گئے۔اس نے بہت شور مچایا اور واویلا کیا کے ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائر منٹ ہوتی ہے اور ساٹھ سال ہونے میں ابھی دو سال باقی ہیں۔لیکن گورنمنٹ کی طرف سے جواب آیا کہ جب تم نوکری میں آئے تھے تو اس وقت جو قانون تھا وہ ۵۸ سال کی عمر میں ریٹائر منٹ کا تھا۔ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائر منٹ کا قانون بعد میں آنے والوں کے لیے ہے تمہارے لیے نہیں۔اسطرح وہ افسر ۵۸ کی عمر میں ریٹائر کر دیا گیا۔اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مولانا بقا پوری صاحب کے ذریعہ پیش گوئی کا پورا ہونا ایک نشان ہے جو کہ اپنی آن بان سے پورا ہوا۔حضرت مولانا کی عمر اس وقت اسی سال سے تجاوز کر چکی تھی۔اور ان کو میرے محکمے کے متعلق کوئی معلومات نہ تھیں۔بس خدا سے انہوں نے التجا کی اور آئندہ کی خبر دی۔میں حیران ہوتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی دعاؤں کو کس آن بان سے قبول فرماتا ہے۔ایک اور واقعہ جو حضرت مولانا بقا پوری صاحب نے خود سنایا وہ پیش کرتا ہوں۔انہوں نے سنایا کہ ایک دفعہ وہ ریل گاڑی میں سفر کر رہے تھے اور اپنی ایک چھوٹی سی گھڑی اپنے پہلو میں رکھی ہوئی تھی۔ایک سٹیشن پر ایک