حیاتِ بقاپوری — Page 350
حیات بقاپوری 350 اس پر عیسائیوں نے کہا کہ ہم کب کہتے ہیں کہ ضرور یہی مولوی صاحب جواب دیں۔کوئی مسلمان ان سوالات کا جواب دے دے اور قرآن مجید کو منجانب اللہ ثابت کرے۔اس پر وہاں کے بعض معزز غیر احمدیوں نے راجہ علی محمد صاحب سے کہا کہ کیا اچھا ہوتا اگر اس وقت آپ کی جماعت کے کوئی عالم یہاں موجود ہوتے تو وہ جواب دیتے۔اس پر راجہ صاحب نے کہا کہ مولوی صاحب تو آئے ہوئے ہیں۔چنانچہ اسی وقت اعلان کر دیا گیا کہ آج تو وقت ختم ہو رہا ہے کل جماعت احمدیہ کے ایک عالم مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری مسلمانوں کی طرف سے پیش ہو کر مقررہ موضوع پر تقریر کریں گے اور عیسائیوں کے اعتراضات کا جواب دیں گے۔اُسی وقت مولوی صاحب نے ایک خط حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کی خدمت میں بھجوایا جس میں دعا کی درخواست کی گئی تھی۔نیز لکھا تھا کہ مفتی محمد صادق صاحب کو بھجوا دیا جائے۔سواگلے روز حضور کے حکم سے خاکسار بھی ہوشیار پور جا پہنچا اور ہم دونوں نے وہاں پر تقاریر کیں اور یہ ثابت کیا کہ قرآن مجید منجانب اللہ ہے اور تمام دنیا کے لیے ہے۔نیز عیسائی معترضین کے کامیاب جواب دئے۔فالحمد للہ علی ذالک۔مکرم مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری میں بفضل تعالیٰ یہ خوبی ہے کہ ان کی تقریر مدلل ہونے کے ساتھ ساتھ عام فہم اور فریق ثانی کے دلوں کو کھینچنے کی تاثیر رکھتی ہے۔اور فریق ثانی کے مباحث خواہ کیسی ہی اشتعال انگیزی کریں۔مولوی صاحب کبھی غصہ میں نہیں آتے تھے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ مکرم مولوی صاحب موصوف اپنی عمر اور صحت کے مطابق اب بھی مرکز سلسلہ میں تعلیم و تدریس کے کام میں مصروف رہتے ہیں۔یہ مجموعہ جو شائع کیا جارہا ہے انشاء اللہ العزیز جماعت کے نو جوانوں کے لیے اور تبلیغ کا جذبہ رکھنے والے دوستوں کے لیے بہت مفید ہو گا۔ہمارے احمدی نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ بھی ان لوگوں کے حالات کا مطالعہ کریں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت سے اب تک کام کیا ہے۔اور ہر کام میں ظاہری تدابیر کے ساتھ دعاؤں کی عادت ڈالی۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے ساتھ ہوا اور حافظ و ناصر رہے فقط۔والسلام۔خاکسار مفتی محمد صادق