حیاتِ بقاپوری — Page 349
حیات بقاپوری 349 کے سپر د خاتم النبین کی تغیر تھی۔جس کو مولوی صاحب نے بفضل تعالیٰ اس خوبی سے نبھایا کہ ڈاکٹر محمد شریف صاحب بٹالوی جو اس وقت غیر مبائع میں سے تھے بہت متاثر ہوئے اور کچھ مدت بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ کی بیعت کر لی۔فالحمد للہ علی ذالک۔دوسرا سفر جو ہم دونوں نے اکٹھے کیا وہ ضلع ہوشیار پور کے ایک قصبہ میں مباحثہ کے لیے کیا تھا۔یہ سفر غالباً 1914ء میں ہوا ہے اور ہمارے تیسرے رفیق حضرت حافظ روشن علی صاحب مرحوم تھے۔اور مد مقابل مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری تھے۔وقت مقررہ پر ہم سب جلسہ گاہ میں پہنچ گئے۔مولوی ثناء اللہ صاحب کو اس وقت بہت مشہور عالم سمجھا جاتا تھا۔چنانچہ ان کا نام سُن سُن کر غیر احمدی لوگ دور دور سے مباحثہ سننے کے لیے آئے۔بہت انتظار کے بعد جب مولوی صاحب نہ پہنچے تو غیر احمدیوں نے اپنے مناظر مولوی ثناء اللہ صاحب کو بلانے کے لیے آدمی بھیجوایا۔وہ شخص جب واپس آیا تو کہنے لگا کہ ہمارے مولوی صاحب کی آج مقدمہ کی سماعت ہے اس لیے نہیں آسکے۔اتفاق سے یہ اتوار کا دن تھا۔مولوی بقا پوری صاحب نے کھڑے ہو کر مجمع کو مخاطب کر کے جواب دیا کہ یہ خوب ہے کہ آپ کے مولویوں کے مقدمات کی سماعت اتوار کے دن ہوتی ہے! اس پر فریق ثانی کے آدمی بہت شرم سار ہوئے اور پھر ہمارے کہنے پر وہ اس بات پر راضی ہو گئے کہ وہ ہماری تقریریں سُن جائیں۔۴۔اس کے بعد میرا ایک اور سفر مکرم مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کے ساتھ یوں ہوا کہ ہوشیار پور میں عیسائیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان ایک مباحثہ قرار پایا۔فریقین کو تین تین دن لیکچروں اور سوال و جواب کے لیے دیئے گئے۔مباحثہ کے مضامین یہ تھے۔(1) انجیل منجانب اللہ ہے اور تمام دنیا کے لیے ہے (۲) قرآن مجید منجانب اللہ ہے اور تمام دنیا کے لیے ہے۔ہوشیار پور کی احمدی جماعت نے (ان دنوں وہاں راجہ علی محمد صاحب ہوتے تھے ) مرکز سے مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری کو اپنے طور پر وہاں بلا لیا ہوا تھا جب مولوی صاحب موصوف وہاں پہنچے تو عیسائیوں کے تین دن ختم ہو چکے تھے اور غیر احمدی علماء کی تقاریر شروع تھیں۔مگر یہ لوگ عیسائیوں کے اعتراضات سے بوکھلا گئے کہ قرآن مجید کو منجانب اللہ بھی نہ ثابت کر سکے۔اور لاجواب سے ہو گئے۔اس پر صاحب صدر جو ایک معزز غیر احمدی وکیل تھے انہوں نے اُٹھ کر کہا کہ مولوی صاحب سے ایسے سوالات نہ کئے جائیں جن کے وہ جواب نہ دے سکیں۔