حیاتِ بقاپوری — Page 346
حیات بقا پوری 346 انسانی کی غایت ہے۔وہ صوفیانہ مذاق رکھتے تھے مگر موجود تصوف کی عملی صورت کو وہ تزکیہ نفس کا ذریعہ نہیں سمجھتے تھے۔اور وہ ان کی اس پیاس و اضطراب کو دور نہیں کر سکتی تھی۔آخر مَنْ جَدَّ وَجَدَ کے مشہور مقولہ کے مطابق انہوں نے گوہر مقصود کو احمدیت میں پالیا۔احمدیت ہی میں ان کے علم کونئی زندگی ملی۔اور وہ علم جو قَالَ، أَقُولُ اور لِمَ وَلَا نُسَلَّم کی بنیادوں پر بھی تھا حقائق کے رنگ میں ظاہر ہونے لگا۔انہوں نے اپنے علم کو احمدیت کا خادم بنایا۔اور جس سچائی کو قبول کیا تھا اس کی اشاعت میں اپنی جوانی کو بڑھاپے سے بدل دیا۔اور اپنی زندگی اس راہ میں عملاً وقف کر دی۔وہ اپنے خاندان میں احمدیت کے آدم ہیں۔ان کے دلائل نہیں بلکہ ان کی عملی زندگی نے ان کے خاندان کو احمدیت میں داخل کر دیا۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔اور نہ صرف یہ بلکہ ان میں خادم احمدیت ہونے کی روح پیدا کر دی۔میں نے حضرت بقا پوری کی سیرت کا یہ ایک ورق لکھا ہے۔احمدیت میں ان کے کارنامے نمایاں ہیں اور ان کی کچھ کیفیت سابقہ اوراق میں ملے گی۔مجھے یہ خوشی ہے کہ میں اپنی زندگی میں اپنے ایک محب قدیم کے تذکرہ کی اشاعت دیکھتا ہوں۔اور یہ خوشی اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ مجھے توفیق ملی کہ میں حق اخوت کا کچھ حصہ ادا کر سکوں۔میں امید کرتا ہوں کہ یہ کتاب علماء کے لیے علمی لحاظ سے ہی نہیں عملی لحاظ سے بھی ایک رفیق الطریق کا کام دے گی۔اللہ تعالیٰ اسے بہتوں کی راہ نمائی کا ذریعہ بنادے اور حضرت بقا پوری کی عمر اور صحت میں برکت بخشے۔آمین۔خاکسار عرفانی الاسدی موسس وائیڈ بیر الحکم قادیان فرماتے ہیں: مکرم مولا نا مولوی ابوالعطاء صاحب جالندھری حضرت مولانا مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری مدتوں سلسلہ کے ایک ان تھک اور سرگرم کارکن رہے