حیاتِ بقاپوری — Page 332
حیات بقاپوری رافضی صحابہ کا کرتے ہیں۔332 حضرت مسیح موعود کے بعد سلسلہ خلافت ضروری ہے:۔آدم اور داؤد کا خلیفہ ہونا میں نے پہلے بھی بیان کیا اور پھر اپنی سرکار کے خلیفہ ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا۔اور یہ بھی بتایا کہ جس طرح ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما خلیفہ ہوئے اُسی طرح پر خدا تعالیٰ نے مجھے مرزا صاحب کے بعد خلیفہ کیا۔اب اور سنو ! انا جعلنا كم خلف فى الارض تم سب کو زمین میں اللہ تعالیٰ نے خلیفہ کیا۔یہ خلافت اور رنگ کی ہے۔پس جب خلیفہ بنانا اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔تو کسی اور کی کیا طاقت ہے کہ اس کے کام میں روک ڈالے۔میرے بعد خلیفہ ضرور ہو گا:۔اس رقعہ کو دیکھ کر سمجھاتا ہوں کہ خلافت کیسری کی دکان کا سوڈا واٹر نہیں۔تم اس بکھیڑے سے کچھ فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔نہ تم کوکسی نے خلیفہ بناتا ہے اور نہ میری زندگی میں کوئی اور بن سکتا ہے۔میں جب مر جاؤں گا۔تو پھر وہی کھڑا ہو گا جس کو خدا چاہے گا۔اور خدا اُس کو آپ کھڑا کر دے گا۔تم نے میرے ہاتھوں پر اقرار کئے ہیں۔تم خلافت کا نام نہ لو۔مجھے خدا نے خلیفہ بنا دیا ہے۔اور اب نہ تمہارے کہنے سے معزول ہو سکتا ہوں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ وہ معزول کرے۔اگر تم زیادہ زور دو گے۔تو یاد رکھو میرے پاس ایسے خالد بن ولید ہیں جو تمہیں مرتدوں کی طرح سزا دیں گے۔خلیفہ سے لڑنا خدا سے لڑنا ہے:۔دیکھو میری دعا ئیں عرش پر بھی سنی جاتی ہیں۔میرا مولیٰ میرے کام میری دعا سے بھی پہلے کر دیتا ہے۔میرے ساتھ لڑائی کرنا خدا سے لڑائی کرتا ہے۔تم ایسی باتوں کو چھوڑ دو اور توبہ کرلو۔خلیفہ اول کے بعد آنیوالے خلیفہ کے اختیارات:- تھوڑے دن صبر کرو۔پھر جو پیچھے آئے گا۔اللہ تعالیٰ جیسا چاہے گا وہ تم سے معاملہ کرے گا۔سعو ! تمہاری نزا میں تین قسم کی ہیں۔اول اُن امور اور مسائل کے متعلق جن کا فیصلہ حضرت صاحب نے کر دیا ہے۔جو حضرت صاحب کے فیصلہ کے خلاف کرتا ہے وہ احمدی نہیں۔جن پر حضرت صاحب نے گفتگو نہیں کی۔اُن پر بولنے کا تمہیں خود کوئی حق نہیں۔جب تک ہمارے دربار سے تم کو اجازت نہ ملے۔