حیاتِ بقاپوری — Page 33
حیات بقا پوری 33 لیا کرتا تھا اور اس طرح نمازوں پر کم از کم دو گھنٹے اور زیادہ سے زیادہ چھ سات گھنٹے اور عام طور پر چار گھنٹے خرچ ہوتے تھے۔اور چھ سات گھنٹے رمضان شریف کے اندر قیام کا موقعہ ملتا تھا۔بقا پور میں ۱۹۰۸ء تک دو سال تک یہی میرا معمول رہا۔اور تلاوت قرآن مجید بھی سوچ سمجھ کر کیا کرتا تھا اور اس کے لیے میرا معمول یہ تھا کہ عموماً تین پارے روزانہ پڑھتا تھا۔اور ان سے مصروفیات روحانی پر میرے پانچ چھ گھنٹے روزانہ صرف ہو جایا کرتے تھے۔اس کے علاوہ تبلیغ بھی کرتا۔اُن دنوں میں میری مخالفت کم ہو گئی تھی کیونکہ لوگ مجھے دن کو قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول دیکھتے اور رات کو نوافل میں گریہ وزاری کرتے دیکھتے تھے۔جیسا کہ میں پہلے ذکر کر چکا ہوں چک ۹۸، ۹۹ میں مجھے چھ سال تک ٹھہرنے کا موقع ملا کیونکہ وہاں کی جماعت نے یہ شرط کی تھی کہ ہم رخصتانہ اس شرط پر کرائیں گے کہ ہم کو دوسال یہاں ٹھہر کر قرآن کریم کا ترجمہ اور مطالب سمجھا کر پڑھا دیں۔میں نے اس شرط کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھتے ہوئے خوشی خوشی قبول کیا اور وہاں پر اپنے قیام کے دوران میں میں مردوں کو قرآن کریم اور اس کا ترجمہ پڑھاتا تھا اور بچوں کو میری بیوی ناظرہ قرآن مجید پڑھایا کرتی تھی اور میں بھی اس کا ہاتھ بٹایا کرتا تھا۔اور سرگودھا کے علاقہ میں کبھی کسی چک میں اور کبھی کسی چک میں تبلیغ کے لیے جایا کرتا تھا۔اللہ تعالیٰ کی توفیق سے شب خیزی اور دن کو تبلیغی مجاہدہ کے باعث میرادل اللہ تعالیٰ کی محبت میں گداز ہوتا چلا گیا اور تعجیل الی اللہ کی کیفیت پیدا ہو گئی۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے خلافت ثانیہ کے عہد میں ۱۹۱۵ء تک ان مجاہدات میں مصروف رہا۔بعض وقت جب میں رمضان شریف کے اندر ساری ساری رات قیام کرتا اور تھک جاتا تو اپنے نفس کو مخاطب کر کے کہتا کہ جب حضور پر نورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنا ہے تو پھر تھکنا کیسا ! حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے کلمات طیبات اور ارشادات ہدایت بنیاد میں حضور بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کی زندگی میں تیرہ سال شدید مجاہدات اور ریاضات کا جوذ کر فرمایا تھا۔الحمدللہ کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مجھے بھی حضور کے نقش قدم پر ۱۹۰۵ء سے ۱۹۱۸ء تک چلنے کی توفیق ملی۔کمزوری اور ضعف کے باعث زیادہ تو نہیں دو گھنٹہ کے قریب اب بھی شب بیداری میں گزار لیتا ہوں۔ان واقعات اور حالات کو اس لیے بھی معرض تحریر میں لایا گیا ہے تا کہ محبت الہی کے طالبوں کا ذوق و شوق بڑھے اور وہ اس زمانہ میں جبکہ محبت دنیوی کے باعث اللہ تعالیٰ کی محبت سرد پڑ گئی ہے، مجاہدات اور ریاضات کے ذریعہ محبت الہی کو حاصل کریں جیسا کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا ہے: