حیاتِ بقاپوری — Page 32
حیات بقاپوری 32 سے کہنے لگے کیا تو کچھ پڑھا ہوا بھی ہے اور کیا تو مرزائی ہے؟ میں نے جواب دیا ہاں میں احمدی ہوں اور صرف میر اور نحو میر پڑھا ہوا ہوں۔تب اس نے کہا کہ حدیث میں ابن مریم کے نازل ہونے کے الفاظ آئے ہیں مثیل ابن مریم کے الفاظ نہیں آئے۔میں نے کہا کہ علم معانی کی رو سے جب مشابہت نام ہو تو بجائے زید کالاسد کے زید ائد کہیں گے اور حرف تشبیہ ک کو حذف کر دیتے ہیں جیسا کہ حدیث میں وارد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابوسفیان نے اسلام سے پہلے بجائے گائینِ ابی کبشہ کے صرف ابن ابی کبشہ کہا تھا۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابن ابی کبعہ ہیں۔جو آپ سے پہلے توحید کا واعظ تھا۔اور آپ بھی چونکہ تو حید کا وعظ اور تلقین کرتے تھے۔اس لیے کفار مکہ نے بجائے ابن ابی کبعہ کا مثیل کہنے کے آپ کو ابن ابی کبشہ کا خطاب دے دیا۔اسی طرح حضور نے آنے والے مسیح محمدی کو کمال مشابہت اور مماثلت تامہ کی وجہ سے ابن مریم کا خطاب دے دیا مثیل ابن مریم نہ کہا۔اس بات کا اس پر بہت اچھا اثر ہوا اور کہنے لگا آپ تو بڑے عالم ہیں۔اس کے بعد اس نے پیشگوئیوں کے متعلق چند سوالات کئے اور جوابات سکنے پر کہنے لگا کہ اگر مرزا صاحب آسمانوں پر چڑھ جائیں تو بھی میں اُن کے دعوی کو نہ مانوں گا۔میں نے کہا مولوی صاحب! آپ نے یہ کمال کیا یہی الفاظ کفار مکہ نے بھی آج سے تیرہ سو سال قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کہے تھے۔او ترقی فی السَّمَاءِ - وَلَن تُو من لیر قیتک۔(۹۴:۱۷) کے کیا معنی ہیں؟ اس پر وہ بہت شرمسار ہوا۔غرض چھ ماہ کے عرصہ میں چوہدری صاحب موصوف نے قرآن کریم پڑھ لیا۔میرے قیام کے دوران میں چوہدری فضل احمد صاحب والد ماجد چوہدری عصمت اللہ صاحب وکیل اور چوہدری حاجی اللہ بخش صاحب مرحوم ( جو چوہدری صلاح الدین صاحب ناظم جائیداد کے نانا تھے ) بھی میرے پاس آکر بیٹھا کرتے تھے اور احمدیت کا ذکر سنا کرتے تھے۔آخر ایک دو ماہ بعد وہ بیعت کر کے سلسلہ حقہ میں داخل ہو گئے اور احمدیت میں بہت اخلاص دکھایا۔میں نے پہلو لپور سے واپسی پر بھی مجاہدات دینی اور ریاضات کے متعلق وہی معمول رکھا اور اس عرصہ میں میرے اندر ذکر الہی کی محبت روز افزوں ترقی کرتی گئی۔چنانچہ میں نے نماز تہجد کا یہ پروگرام بنایا۔میں تہجد کی گیارہ رکعت کے لیے دس پندرہ سے لے کر ہمیں منٹ فی رکعت صرف کیا کرتا تھا اور بسط کے دنوں میں ایک ایک رکعت میں آدھ آدھ گھنٹہ تک بھی قیام کرتا تھا۔اندازہ کے لیے میرے پاس گھڑی ہوتی تھی یا پھر میں ستاروں سے اندازہ کر