حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 285 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 285

حیات بقاپوری 285 ا۔90ء کے آخری ایام میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی وفات کے متعلق تواتر سے وحی ہوئی۔تو آپ نے ایک قبرستان کی بنیاد ڈالی جسے مقبرہ بہشتی کہتے ہیں۔اور اپنی طرف سے اپنی ملکیت کی زمین میں سے ایک قطعہ بطور چندہ دیا۔اس کے ابتدائی اخراجات کے لیے چندے کی تحریک کی اور فرمایا کہ بالفعل یہ چندہ اخویم مکرم مولوی نورالدین صاحب کے پاس آنا چاہیے۔لیکن اگر خدا نے چاہا تو یہ سلسلہ ہم سب کی موت کے بعد بھی جاری رہیگا۔اس صورت میں ایک انجمن چاہیے۔کہ ایسی آمدنی کا روپیہ جو وقتاً فوقتاً جمع ہوتا رہے گا۔اعلائے کلمہ اسلام اور اشاعت توحید میں جس طرح مناسب سمجھے خرچ کریں۔آگے چل کر حضور لکھتے ہیں۔اور یہ مالی آمدنی ایک بادیانت اور اہل علم انجمن کے سپر در ہے گی۔اور وہ با ہمی مشورے سے ترقی اسلام اور اشاعت علم قرآن و کتب دینیہ اور اس سلسلہ کے واعظوں کے لیے حسب ہدایت مذکورہ بالا خرچ کریں گئے“ (رسالہ الوصیت صفحہ ۱۹)۔اس انجمن کا نام حضور نے انجمن کار پرداز مصالح قبرستان رکھا (ضمیمہ رسالہ الوصیت صفحہ ۲۳)۔انجمن کے فرائض میں سے یہ فرض بھی قرار دیا کہ قانونی اور شرعی طور پر ہر وصیت کردہ مضمون کی نسبت اپنی پوری تسلی دیکھ کر وصیت کنندہ کو ایک ٹریفکیٹ اپنے دستخط اور مہر کے ساتھ دیدے اور جب قواعد مذکورہ بالا کی رو سے کوئی میت اس قبرستان میں لائی جائے تو ضروری ہوگا۔کہ وہ شریفکیٹ انجمن کو دکھلایا جائے اور انجمن کی ہدایت اور موقع نمائی سے وہ میت اس موقع میں دفن کی جائے جو انجمن نے اس کے لیے تجویز کیا ہے۔انجمن جس کے ہاتھ میں ایسا روپیہ ہو گا۔اس کو اختیار نہیں ہوگا کہ بجز اغراض سلسلہ عالیہ احمدیہ کے کسی اور جگہ وہ روپیہ خرچ کرے اور ان اغراض میں سے سب سے مقدم اشاعت اسلام ہوگی اور جائز ہوگا۔کہ انجمن با تفاق