حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 201 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 201

حیات بقا پوری 201 صاحبہ )۔جب ہم چاروں دعا کر رہے تھے، تو مجھے الہام ہوا: میں نے اسی وقت مولوی صاحب کو یہ الہام بتا دیا۔حج مبرور الحمد للہ کہ اس سال ۱۹۵۸ء میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مولوی صاحب کو توفیق ملی کہ دونوں صاحبان میاں بیوی فریضہ حج کی ادائیگی سے مشرف ہو آئے۔جیسا کہ الفضل سے دوستوں کو معلوم ہو گیا ہو گا۔مولوی صاحب موصوف نے اس بارہ میں جو مجھے خط لکھا۔وہ درج ذیل ہے: مخدومی محترمی تھی مولوی محمد ابراہیم صاحب بقاپوری السلام عليكم ورحمته الله وبركاته الحمد اللہ اثم الحمد للہ! میں اپنی اہلیہ صاحبہ کے ہمراہ حج کا فریضہ ادا کر آیا ہوں۔جہاں یہ میرے لئے مبارک ہے وہاں آپ کو بھی مبارک صد مبارک ہو۔اللہ تعالٰی نے آپ کو میر احسن دوست مہربان سمجھ کر عرصہ قریباً دو سال کا ہوا اپنے علم غیب سے اطلاع بخشی۔اور وہ یوں کہ عرصہ قریباً دو سال کا ہوا کہ آپ بعد نماز فجر مع اپنی اہلیہ محترمہ صاحبہ کے محلہ دار النصر ربوہ میں میرے مکان پر تشریف لائے تھے۔دورانِ گفتگو میں نے آپ سے دریافت کیا کہ برخوردار مسعود احمد خورشید کے مقدمہ کے لئے دعا کی ہے یا نہ۔آپ نے فرمایا، ہاں کئی بار دعا کر چکا ہوں۔پھر فرمایا، آئیے ! اب بھی دعا کر لیں۔اور دعا کے لئے آپ نے ہاتھ اٹھائے۔آپ کی اہلیہ صاحبہ اور خاکسار اور خاکسار کی اہلیہ بھی شامل ہوئے۔دعا کے بعد آپ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: حج مبرور میں حیران ہوا کہ دعا تو آپ نے مقدمہ کیلئے کی ہے، اور جواب میں فرمایا: 'حج مبرور مگر اللہ تعالیٰ نے عرصہ دو سال کے بعد حج کا موقعہ دے کر ثابت فرما دیا کہ آپ جس دوست کے فرزند مسعود احمد کے مقدمہ کے لئے دعا کرتے ہیں، اس پر تو فضل ہوگا ہی، مگر ہم تمہارے دوست کیلئے تمہیں حج مبرور کی اطلاع دیتے ہیں۔یعنی مقدمہ سے بری ہونے کے بعد وہ اپنے والدین کو حج بھی کرائے گا۔الحمد لله ثم الحمد لله اجو خبر آپ کو اس مقدس ہستی نے بطفیل غلامی جری اللہ فی حل الانبیاء دی تھی وہ پوری ہوگئی۔خاکسار کے انجام بخیر کے لئے دعا فرما دیں۔دعا گو قدرت اللہ سنوری از ریوه ۲ اگست ۱۹۵۸ء ۱۴۰ ۲۹ اپریل ۱۹۵۶ء کا واقعہ ہے۔کہ استانی امتہ الرحمن صاحبہ ( بنت مولوی شیر علی صاحب) سے امتحان کے