حیاتِ بقاپوری — Page 172
حیات بقا پوری 172 دوائی دی کہ اُسے آدھ آدھ گھنٹہ کے بعد ڈالتے رہیں۔جس سے آنکھ تو اپنی جگہ پر بیٹھ گئی لیکن زخم کی وجہ سے درد اس قدر شدت سے ہوا کہ میں بے بس ہو کر یہ چاہتا تھا کہ دیوار سے سر پھوڑ لوں۔اور اندیشہ ہوا کہ آنکھ سے جو پانی آرہا ہے اس سے شاید بینائی ضائع ہو جائے گی۔جب دوسری رات آئی تو میں نے درد کرب کی حالت میں لیٹے لیے دعا کی تو یکدم غنودگی ہوئی تو میں نے دیوار پر لکھا ہوا دیکھا۔اسلام اسلیم۔اور مجھے یقین ہوگیا کہ انشاء اللہ تعالی مکمل صحت ہو جائے گی۔چنانچہ جب میری آنکھ کھلی تو درد بالکل نہ تھا جس سے یقین ہوا کہ زخم بھی اچھا ہو جائے گا اور نظر قائم رہے گی۔سو الحمد للہ تعالیٰ ایسا ہی ہوا۔۵۳۔ہمارے ایک رشتہ دار اور اس کے بیٹے ہر دو نے ہماری مخالفت کی۔دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ ہم کو ان کے شر سے محفوظ رکھے۔۲۳۔اپریل ۱۹۳۹ء کو دو بندر دیکھے۔میں کپڑا اوڑھے لیٹا ہوا ہوں۔ایک بندر نے موٹا سا ڈنڈا (جو موسل کی طرح کا ہے) مجھے مارا لیکن مجھے چوٹ نہیں آئی۔میں کہتا ہوں کہ اگر یہ دوبارہ آیا تو اسے پکڑ لوں گا۔لیکن وہ دوبارہ نہ آیا۔اور اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے اُن کے مقدمات خارج ہو گئے اور دونوں جگہ سے انہیں ذلت نصیب ہوئی۔الحمد للہ علی ذالک۔۵۴ ۲۳ اپریل ۱۹۴۹ء کو نماز تہجد ادا کر کے میں سو گیا۔جب آنکھ کھلی تو زبان پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواة والسلام کا یہ الہام جاری تھا: سلامت بر تو اے مرد سلامت۔-۵۵ ۲۴ فروری ۱۹۴۹ء کو دیکھا ۸۶ روپے پنشن۔الحمد للہ اپریل ۱۹۵۲ء سے یہ رویا پوری ہو رہی ہے کہ سلسلہ کی طرف سے پنشن بعد منہائی حصہ وصیت ۳۶ روپے اور ۵۰ روپے ایک لڑکے سے مل رہے ہیں۔۵۶ ۱۹۴۹ء میں جب عزیزہ رقیہ بیگم سلمہا اللہ تعالیٰی بی اے کرنے کے بعد بی ٹی کا امتحان دے رہی تھی تو اس کی کامیابی کے لیے دعا کی گئی تو مجھے کوئی کہتا ہے: 'پرچے چنگے ہورہے ہیں۔الحمد للہ کہ وہ کامیاب ہو گئی۔