حیاتِ بقاپوری — Page 167
حیات بقا پوری 167 - صوفی محمد رفیع صاحب ریٹائر ڈسپرنٹنڈنٹ پولیس سکھر حال پراونشل امیر صوبہ سندھ نے مجھے اپنے بیٹے عزیز فخرالدین کے تحصیلداری کے امتحان میں پاس ہونے کے لیے دعا کرنے کو کہا۔میں نے دعا کی تو ے۔اپریل ۱۹۴۷ء کو دیکھا کہ عزیز فخر الدین کھڑا ہے اور کسی پاس والے نے کہا کہ یہ سب سے چھوٹی عمر میں تحصیلدار ہوا ہے۔چنا نچہ ۲۵۔جون ۱۹۴۷ء کو امتحان کے نتیجہ میں کامیاب ہو گیا اور دوسرے پاس ہونے والوں میں سب سے چھوٹا تھا۔۴۰۔ماہ جولائی ۱۹۴۷ء میں میرا بیٹا عزیز مبارک احمد بیمار ہوا اور انہی دنوں میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب بھی بہت کمزور ہو چکے تھے۔دونوں کی صحت کے لیے دعا کی۔۱۲۔جولائی ۱۹۴۷ء کو مجھے الہام ہوا کہ ۱۵ تا ۱۸ تاریخ تک پوری صحت ہو جائے گی۔نیز معلوم ہوا کہ حضرت میر صاحب فوت ہو جائیں گے کیونکہ مجھے الہام ہوا کوئی کہتا ہے کہ مہاراجہ بوڑھا مر گیا ہے۔۲۸۔شعبان کی صبح مبارک احمد تندرست ہو گیا اور شام کو حضرت میر صاحب کی وفات ہوئی۔انا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔۴۱ ۲۰ ستمبر ۱۹۴۷ء کو حضرت خلیفہ اسی اشانی ایدہ اللہتعالی کا اراد پہنچا کہ بوڑ ھے مردوں عورتوں اور بچوں کو قادیان سے نکالو۔میں نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سے زبانی عرض کیا کہ میں اور میری بیوی اور چھوٹا لڑکا حضور کے ارشاد کے ماتحت جانا چاہتے ہیں۔آپ نے فرمایا لکھ کر مجھے درخواست دے دیں۔کئی کنوائے آئے لیکن میں نہ جا سکا۔اور اکثر احمدی بوڑھے مرد اور عورتیں اور بچے درخواستوں کی ترتیب کے مطابق لاہور پاکستان پہنچا دئے گئے۔آخر میری بیوی نے چھوٹے لڑکے مبارک احمد کو ہمت کر کے ایک ٹرک پر بٹھا دیا اور وہ جوں توں کر کے لاہور اپنے خالونشی یوسف علی صاحب کے ہاں پہنچ گیا۔وہاں پر دوسرے دن میرا لڑکا ڈاکٹرمحمد الحق بقا پوری قادیان کی خبر دریافت کرنے کے لیے یوسف علی صاحب کی دکان پر پہنچا۔اس کی ڈیوٹی ان ایام میں امرتسر میں تھی۔مبارک احمد کو دیکھ کر اس نے سمجھا کہ میرے والدین بھی آگئے ہوں گے۔لیکن مبارک نے روتے ہوئے کہا کہ اباجی اور اماں جی تو وہاں ہی رکے ہوئے ہیں اور آنے کا کوئی بندوبست نہیں ہو سکا۔ادھر میں نے بہت تضرع سے دعا کی تو مجھے الہام ہوا: میرے سلامتی سے جانے کے بعد دودن