حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 164 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 164

حیات بقاپوری 164 والے عمر قریباً ۵۰ سال چہرہ پر شرافت نرمی اور نورانیت مترشح تھی۔اُن کا صاحبزادہ بھی ہمراہ تھا۔جس کی عمر قریباً چھپیں سال چہرہ پر باپ کی طرح آثار رشد ظاہر ہورہے ہیں۔دونوں کے سروں پر دستار تھیں۔میں بڑا خوش ہوں اور لوگوں میں ذکر کرتا ہوں کہ یہ حضرت شعیب ہیں اور یہ ان کا بیٹا ہے۔۳۰۔1911ء کے آخر میں میں نے اپنے لیے اولاد کی دعا کی۔تو ستمبر 1911ء کو اپنی اہلیہ کی گود میں لڑکا دیکھا۔۱۹۱۲ء میں مبارکہ مرحومہ پیدا ہوئی جو ۲۳ ستمبر ۱۹۴۷ء کو ۱۵ سال اور چندہ ماہ کی ہو کر فوت ہوگئی۔وہ اپنی دماغی صلاحیتوں کے لحاظ سے لیس الذکر کالائٹی کا مصداق تھی اور اتنی چھوٹی عمر میں اردو، عربی، انگریزی میں تقریر کرتی تھی۔جس کی وفات پر حضرت اقدس نے فرمایا زندہ رہتی تو بڑی قابلیت کی عورت ہوتی۔۱ ۱۷ ستمبر 1911ء مطابق ۲۳۔رمضان کو میں نے دعا مانگی رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّلِحِينَ۔اس وقت میں اعتکاف میں تھا۔رویاء میں دیکھتا ہوں کہ ایک جوان عورت پاؤں کے بل بیٹھی ہوئی ہے اور اس کی گود میں کپڑوں میں لپیٹا ہوا بچہ ہے اور مجھے کہتی ہے: 'لے ایسی صفتوں والا لڑکا۔دس سال بعد ۱۷۔اگست ۱۹۲۱ء کو میرے ہاں محمد اسمعیل اور محمد الحق تو ام پیدا ہوئے۔الحمد للہ تعالی۔-۳۲ ۲۰ رمضان مطابق ۲۰ ستمبر 1911ء مجھے کوئی کہتا ہے کہ یہ تیرہ روپے تم کو دئے میں نے لے لئے۔الحمد لله - ۱۹۳۵ء میں ۳۴ سال بعد تیرہ روپے میری پنشن میں ترقی کر دی گئی۔۳۳ یکم اپریل ۱۹۱۲ ء کو دیکھا کہ لڑکا پیدا ہوا ہے اور اس کا نام محبوب احمد رکھا ہے۔پھر ۱۸۔اپریل ۱۹۱۲ء کو بھی ایسا ہی دیکھا کہ ایک لڑکا پیدا ہوا ہے اور اس کا نام محبوب احمد رکھا گیا ہے۔چنانچہ ۱۶ نومبر (۱۹۵ء کو میرے بیٹے محمد اسمعیل کے ہاں میرا پانچواں پوتا پیدا ہوا اور اس کا نام محبوب احمد رکھا گیا۔۲۳۴ جنوری ۱۹۱۴ء کو رویاء میں دیکھا کہ میاں محمد بخش صاحب آف گوجرانوالہ (جو ہا بو فتح محمد صاحب شرما