حیاتِ بقاپوری — Page 151
حیات بقا پوری 151 چار سال سے مہتم آبادی کے پاس مربعوں کی تبدیلی کے لیے کئی درخواستیں دے چکا ہوں لیکن تا حال کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔آپ میرے لیے دعا کریں۔چونکہ چوہدری صاحب بہت مخلص اور سلسلہ کی مالی خدمت کرنے میں بہت مستعد تھے میں نے ان کے حق میں دعا کی۔چنانچہ ۱۵۔جنوری ۱۹۱۰ء کو مجھے ایک قطعہ زمین چک نمبر 9 جنوبی کا دکھایا گیا جو لمبا زیادہ اور چوڑا کم تھا اور چک نمبر ۹۸ کی زمین سے ملحق تھا اور تفہیم یہ ہوئی کہ یہ قطعہ چوہدری غلام حسین صاحب کو دیا جائے گا جو بہت ہی زرخیز اور عمدہ زمین پر مشتمل ہے۔اسی وقت میں نے چوہدری صاحب موصوف کو اس سے آگاہ کیا اور کہا کہ آپ کوشش جاری رکھیں انشاء اللہ تعالیٰ عمدہ زمین آپ کو مل جائے تو بہت خوش قسمتی ہے۔چنانچہ دو سال چھ ماہ بعد جون ۱۹۱۲ء میں اسی زمین کے ساتھ ان کے مربعہ جات کا تبادلہ ہو گیا جو خواب میں دکھائی گئی تھی اور اب تک ان کے پاس ہے۔الحمد للہ۔جن دنوں حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ کی نواسی عزیزہ رقیہ بیگم سلمہا اللہ تعالیٰ میٹرک پاس کرنے کے بعد ۱۹۳۹ء میں ٹائیفائڈ سے بیمار ہوگئی تو ایک روز حضرت مولوی صاحب موصوف میرے پاس آئے کہ میں نے اس کے لیے بہت دعائیں کی ہیں اور بعض دوسرے بزرگوں سے بھی کروائی ہیں کہ اللہ تعالیٰ صحت و شفا بخشے۔آج رات مجھے الہام ہوا ہے کہ مولوی بقا پوری صاحب سے اس کے لیے دعا کراؤ۔لہذا آپ میرے ساتھ چلیں اور اس کی صحت کے لیے دعا کریں۔چنانچہ میں اُنکے ساتھ گیا اور رقیہ بیگم کی شفایابی کیلئے ایک لمبی دعا کی۔مجھے اُسی وقت الہام ہوا کہ مولوی شیر علی صاحب ایک سیاہ مرغی ذبیح کریں۔میں نے دُعا سے فارغ ہو کر یہ خوشخبری ان کو سُنا دی۔وہ فرمانے لگے میں سیاہ مرغی لے آتا ہوں آپ ذبح کر دیں۔میں نے کہا نہیں بلکہ آپ اپنے ہاتھ سے حسب الہام ذبیح کریں۔چنانچہ اس کے مطابق عمل کیا گیا اور مولوی صاحب کی نواسی صحت یاب ہوگئی اور بعد میں اس نے بی۔اے۔بی۔ٹی۔تک تعلیم حاصل کی اور پھر وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی مشیت سے میری بہو بھی بن گئی۔الحمد لله رب العالمين ۱۹۳۰ء میں جبکہ میری اہلیہ تپ محرقہ سے تین ماہ بیمار رہی اور ٹائیفائڈ کا ایک دورہ ختم ہو کر ۲۷۔۲۸ دن بعد دوسرا دورہ شروع ہو جاتا تھا۔تو لیڈی ڈاکٹر غلام فاطمہ صاحبہ نے مشورہ دیا کہ اگر مریضہ کی زندگی مطلوب ہے تو