حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 112 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 112

حیات بقاپوری 112 اپنے استاد سے مصافحہ کر کے جانے لگا تو استاد نے اسے روک کر پوچھا۔کہ یہ بتاؤ کہ مولوی ابراہیم بقا پوری کی حالت مرزا صاحب کی بیعت کرنے کے بعد کیسی ہے؟ کیا وہ بیعت کے بعد صوم وصلوٰۃ کے پہلے سے زیادہ پابند ہیں یا کم ؟ اس نے جواب دیا۔کہ اب تو وہ زیادہ پابند ہیں۔وہ تو اب اللہ تعالیٰ کے حضور میں بڑے خشوع و خضوع سے روتے اور گڑ گڑاتے ہیں۔اس پر استاد نے کہا کہ پھر ان کو میرے پاس نہ بھیجنا۔۷۲۔نیک نمونہ کا اثر 1919 ء کا واقعہ ہے کہ میں سیالکوٹ کے دیہات میں تبلیغی دورہ کر رہا تھا۔چوہدری محمد حسین صاحب جو نواب محمد دین صاحب کے چھوٹے بھائی تھے۔وہ بہت ہی مخلص احمدی تھے۔وہ مجھے اپنے ہمراہ کسی گاؤں میں لے گئے۔وہاں میری تقریر ہوئی جس میں میں نے سورۃ یس کی تفسیر کرتے ہوئے بتایا کہ ہر مدعی اپنے دعوئی کا ثبوت اپنے کام سے دیتا ہے۔بڑھئی اپنے دعوے کے ثبوت میں بڑھئی کا کام ہی پیش کرے گا۔اور طبیب یا ڈاکٹری کا دھوئی کرنے والا اپنے علاج کو ہی بطور ثبوت پیش کرے گا۔اسی طرح رسالت یا نبوت کا دعویٰ کرنے والے سے ہم ایسے ہی کاموں کی امید کریں گے جن کا تعلق رسالت و نبوت سے ہو۔اور میں نے چوہدری محمد حسین صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے لئے بطور مثال پیش کیا۔اور کہا کہ دیکھئے چوہدری صاحب جو آپ کے پاس ہی رہتے ہیں اور آپ کی برادری سے ہیں ان میں شفقت على خلق اللہ اور تعظیم لامر اللہ کس طرح کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔اور ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کس قدر والہانہ عشق ہے۔اور یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق ، نماز روزہ کس پابندی سے ادا کرتے ہیں۔اور یہی حضرت مرزا صاحب کا دعوی ہے کہ ان کے اتباع سے اس قسم کے بچے مسلمان پیدا ہوتے ہیں۔جب ہم اس تبلیغی دورہ سے واپس آئے تو اسی گاؤں سے چوہدری محمد حسین صاحب کی برادری سے تین گھرانوں نے بیعت کے خطوط لکھے۔فالحمد لله على ذالک۔۷۳ اس دنیا میں مردے زندہ نہیں ہو سکتے اس کے بعد ہم ایک اور گاؤں میں گئے۔وہاں بھی میں نے سورۃ لیس سکسی آیات کی روشنی میں ہی وعظ کیا۔اور بتایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔اقروا علیٰ موتاکم یس یعنی اپنے مرنے والوں پریس