حیاتِ بقاپوری — Page 108
حیات بقاپوری 108 نبی آسکتا ہے۔مولوی صاحب تو ذرا خاموش ہو گئے۔لیکن میں نے جلدی سے کہدیا کہ چوہدری صاحب! مولوی صاحب سے کتاب موضوعات ملا علی قاری منگا لیں۔جو حنفیوں میں بڑے پائے کے عالم اور آٹھویں صدی کے مجدد تھے۔انہوں نے بھی اپنی کتاب میں اس مسئلہ پر بالتفصیل روشنی ڈالی ہے۔چنانچہ کتاب لائی گئی اور چوہدری صاحب کے کہنے پر انہوں نے مندرجہ ذیل عبارت جوصہ ۵۹ پر ہے پڑھ کر سنائی: لو عاش ابراهيم وصار نبيّاً لكان من اتباعه صلى الله عليه وسلم فلا يناقض قوله تعا لی و خاتم النبيين و حديث لا نبى بعدى اذا المعنى لا يا تى بعدة نبي ينسخ ملته ولم يكن من امته صلى الله تعالى عليه جس کا ترجمہ یہ ہے کہ: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور نبی ہوتا۔لیکن رسول اللہ صلے اللہ وسلم کا تابع اور امتی ہوتا۔کیونکہ اس طرح کا نبی آنا آیت خاتم انہین اور حدیث لانبی بعدی کے برخلاف نہیں ہے۔کیونکہ اس آیت اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کر دے۔اور آپ کی اُمت میں سے نہ ہو۔بلکہ جو ہو گا، آپ کی اُمت میں سے ہوگا اور آپ کی شریعت کے تابع ہوگا۔یہ سنتے ہی چوہدری صاحب نے کہا کہ احمدیوں کو لوگ خواہ مخواہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد علیحدہ نبی بنا لیا ہے۔حالانکہ اُن کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا صاحب نبی اللہ ہیں مگر نبی کریم صلے اللہ علیہ و سلم کے تابع اور اُمتی نبی ہیں۔اور ایسے نبی آنے کے تمام مسلمان قائل ہیں۔لہذا میری بیعت کا خط لکھا جائے۔چنانچہ چوہدری مولا بخش صاحب نمبر دار مع اپنے آٹھ دس گھر متعلقین کے احمدی ہو گئے۔فالحمد للہ علی ذالک۔۔حضرت مسیح موعود کا نبی اللہ ہونا جن دنوں میں راولپنڈی میں تھا۔ایک دن قمر الدین صاحب جہلمی غیر مبائع میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے پیرعبدالکریم صاحب سے ملنا ہے آپ میرے ساتھ پیر صاحب کے مکان پر چلیں۔جب ہم وہاں پہنچے تو دوران گفتگو میں پیر جی نے اپنے ایک افغان مرید کو کہا کہ یہ مولوی بقا پوری صاحب ہیں جو احمدی جماعت میں درس دیتے ہیں۔خان صاحب نے کہا پہلے تو ڈاکٹر بشارت احمد صاحب درس دیتے تھے۔پیر جی نے کہا کہ وہ اب بھی