حیاتِ بقاپوری

by Other Authors

Page 10 of 390

حیاتِ بقاپوری — Page 10

حیات بقاپوری پیدائش: 10 میری پیدائش ماه اسوج ۱۹۳۷ بکرمی مطابق ماہ اکتوبر۳ ۱۸۷ء بمقام چک چٹھہ تحصیل حافظ آباد ضلع گوجرانوالہ پنجاب کی ہے۔تعلیم و ابتدائی حالات:- سات سال کی عمر میں تیسری جماعت تک سرکاری مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔آٹھویں سال یعنی ۱۸۸۱ء میں وہاں سے میں اپنے جدی مقام بقا پور ضلع گوجرانوالہ میں آگیا۔یہاں حمید پورنامی گاؤں میں جو بقا پور سے دومیل کے فاصلہ پر ہے ایک مولوی صاحب کے پاس قرآن شریف اور کچھ فارسی ( گلستاں بوستاں تک ) پڑھی۔انہی دنوں یعنی ۱۸۸۳ء میں انتشار نجوم ہوا جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں فرمایا ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہاں ایک زمیندار نے مولوی صاحب سے صبح آکر اس کا ذکر کیا کہ آج ساری رات ستارے گرتے رہے ہیں۔۱۸۸۴ء میں میں لاہور نیلا گنبد کے مدرسہ رحیمیہ میں داخل ہوا اور قدوری کا فیہ اور فصول اکبری وغیرہ کتب پڑھیں اور ۹ ۱۸۸۹ میں دو سال تک لدھیانہ میں مولوی عبد القادر صاحب احمدی مرحوم لدھیانوی سے تعلیم پائی اور ۱۸۹۱ء میں مجھے مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت سے مشرف ہونے کا موقع ملا۔میرے استاد مولوی عبد القادر صاحب مرحوم نے مجھے آٹھ آنے دیکر محلہ اقبال سنج لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس کتاب فتح اسلام لانے کیلئے بھیجا تھا۔عصر کی نماز میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیچھے پڑھی۔اس کے بعد (۱۸۹ء سے لے کر ۳ ۱۸۹ء تک مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور میں میں نے اپنی تعلیم مکمل کی اور ۱۸۹۳ء میں ہی میں مدرسہ عربی شہر مندرا ریاست کچھ بھوج میں اول مدرس عربی متعین ہوا۔اُس وقت میری عمر تقریباً بیس سال تھی۔وہاں کا ایک واقعہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ رمضان شریف میں جو کسوف خسوف ہوا تھا مجھ سے لوگوں نے پوچھا کہ کیا ان تاریخوں میں جو سورج اور چاند کو گرہن ہوا ہے یہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی علامت ہے؟ اس نشان سے تو معلوم ہوتا