حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 59 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 59

حیات احمد ۵۹ جلد پنجم حصہ دوم کے لئے دل میں محبت نہیں ہے، تو عبادت بھی بے سود ہے، کیونکہ عبادت محبت ہی کا نام ہے۔وہ تمام لوگ جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی ایسی چیز کی عبادت کرتے ہیں جس پر کوئی سلطان نازل نہیں ہوا، وہ سب مشرک ہیں۔سلطان تسلط سے لیا گیا ہے جو دل پر تسلط کرے اس لئے یہاں دلیل کا لفظ نہیں لکھا ہے۔عبادت کیا ہے جب بندہ انتہا درجہ کی محبت کرتا ہے۔جب انتہا درجہ کی امید ہو، انتہا درجہ کا خوف ہو۔یہ سب عبادت میں داخل ہے۔غیر اللہ کی عبادت کا اتنا ہی مفہوم نہیں ہے کہ سجدہ نہ کیا جاوے نہیں۔بلکہ اُس کے مختلف مدارج ہیں اگر کوئی مال سے انتہا درجہ کی محبت کرتا ہے تو وہ اس کا بندہ ہوتا ہے۔خدا کا بندہ وہ ہے جو خدا کے سوا اور چیزوں کی حد اعتدال تک رعایت کرتا ہے اسلام میں محبت و امید منع نہیں ہے مگر ایک حد تک۔اللہ تعالیٰ نے صاف طور پر فرما دیا ہے کہ جو خدا سے محبت کرتے ہیں ، اُسی سے ڈرتے اور اُسی سے امید رکھتے ہیں وہ ایک سلطان رکھتے ہیں، لیکن جونفس کے تابع ہوتے ہیں اُن کے پاس کوئی سلطان نہیں ہے جو محکم طور پر دل کو پکڑے۔غرض انسان کا کوئی فعل اور قول ہو جب تک وہ خدائی سلطان کا پیرو نہ ہوشرک کرتا ہے۔پس ہم جو اپنی کارروائی کی دوطور پر اشاعت چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی شاہد نہیں ہو سکتا کہ کس قدر سچے جوش اور خالصہ لِلہ اس کو پیش کرتے ہیں۔ہمیں اتفاق نہیں ہوا کہ انگریزی میں لکھ پڑھ سکتے۔اگر ایسا ہوتا تو ہم کبھی بھی اپنے دوستوں کو تکلیف نہ دیتے مگر اس میں مصلحت یہ تھی کہ تا دوسروں کو ثواب کے لئے بلائیں ورنہ میری طبیعت تو ایسی واقع ہوئی ہے کہ جو کام میں خود کر سکتا ہوں اس کے لئے کسی دوسرے کو کبھی کہتا ہی نہیں۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور چار برس زندگی پاتے تو ابو بکر رضی اللہ عنہ فوت ہو جاتے۔دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہ فتح عظیم جس کا آپ کے ساتھ وعدہ تھا حاصل کر چکے تھے۔وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا النصر : ٣