حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 56
حیات احمد ۵۶ جلد پنجم حصہ دوم میں درمیانی خلفاء کا نام نہیں لیا۔جیسے وہاں ابتداء اور انتہا بتائی، یہاں بھی یہ بتادیا کہ ابتدا مثیل موسی سے ہوگی اور انتہا مثیل عیسی پر گویا خاتم الخلفاء وہی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں مسیح موعود کہتے ہیں۔موعود اس لئے کہتے ہیں کہ اس کا وعدہ کیا گیا ہے۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لے میں خلفاء کے تقرر کا جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا تھا، اُسی وعدہ میں وہ خاتم الخلفاء بھی شامل ہے اور نص قرآنی سے بھی ثابت ہوا کہ وہ موعود ہے۔جو خط ایک نقطہ سے شروع ہو گا وہ ختم بھی نقطہ پر ہی ہوگا۔پس جیسے وہاں خاتم صحیح ہے، یہاں بھی خاتم خلفاء ہے۔اس لئے یہ اعتقاد اسی قسم کا ہے اگر کوئی انکار کرے کہ اس امت میں مسیح موعود نہ ہو گا وہ قرآن سے انکار کرتا ہے اور اس کا ایمان جاتا رہے گا اور یہ بالکل واضح بات ہے اس میں تکلف اور تصنع اور بناوٹ کا نام نہیں ہے، پھر جو شک وشبہ کرے وہ قرآن شریف کو چھوڑتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کو کئی سورتوں میں بیان کر دیا ہے۔اوّل تو یہی سورہ نور، دوسری سورہ فاتحہ جس کو ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھتے ہیں اس سورۃ میں تین گزشتہ فرقے پیش کئے ہیں۔ایک وہ ہے جو اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے مصداق ہیں، دوسرے مَغْضُوبِ تیرے مَالِينَ۔مَغْضُوب سے یہ مخصوصاً مراد نہیں کہ قیامت میں ہی غضب ہوگا۔کیونکہ جو کتاب اللہ کو چھوڑتا اور احکام الہی کی خلاف ورزی کرتا ہے ان سب پر غضب ہو گا مَغْضُوب سے مراد بالاتفاق یہود ہیں اور الضَّالِّينَ سے نصاری۔اب اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ مُنْعَمُ عَلَيْهِ فرقے میں داخل ہونے اور باقی دو سے بچنے کے لئے دعا ہے اور یہ سنت اللہ ٹھہری ہوئی ہے۔جب سے نبوت کی بنیاد ڈالی گئی ہے خدا تعالیٰ نے یہ قانون مقرر کر رکھا ہے کہ جب وہ کسی قوم کو کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا حکم دیتا ہے تو بعض اس کی تعمیل کرنے اور بعض خلاف ورزی کرنے والے ضرور ہوتے ہیں۔پس بعض مُنْعَمُ عَلَيْهِ بعض مَغْضُوب النور: ۵۶