حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 52 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 52

حیات احمد ۵۲ جلد پنجم حصہ دوم متعلق بالفعل کسی قسم کی رائے زنی نہیں ہوسکتی۔اور یہی ایک بڑا بھاری امر ہے جو سو چنے کے لائق ہے۔اس لئے قرین مصلحت یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک مجلس دوستوں کی منعقد کر کے اس کے متعلق بحث کی جائے اور جو طریق بہتر اور اولی معلوم ہو وہی اختیار کیا جائے۔مگر یہ بات ظاہر کرنے کے لائق ہے کہ مجھے اس سرمایہ کے انتظام میں کچھ دخل نہیں ہوگا اور غالباً اس کو ایک امر تجارتی تصور کر کے ایسے ممبر مقرر کئے جائیں گے جو اس تجارت کے حصہ دار ہوں گے اور انہی کی تجویز اور مشورہ سے جس طور سے مناسب سمجھیں گے۔یہ روپیہ جمع ہو کر کسی بینک میں جمع کیا جاوے گا۔لیکن چونکہ ایسے امور صرف اشتہارات سے تصفیہ نہیں پاسکتے۔لہذا میں نے مناسب سمجھا ہے کہ اس جلسہ کے لئے بڑی عید کا دن قرار پاوے اور جہاں تک ممکن ہو سکے ہمارے دوست کوشش کریں کہ اس دن قادیان پہنچ جائیں۔تب سرمایہ کے متعلق بحث اور گفتگو ہو جائے گی کہ کس طور سے یہ سرمایہ جمع ہونا چاہیے اور اس کے خرچ کے لئے انتظام کیا ہو گا۔یہ سب حاضرین جلسہ کی کثرت رائے پر فیصلہ ہوگا۔بالفعل اس کا ذکر قبل از وقت ہے۔ہاں ہر ایک صاحب کو چاہیے کہ اس رائے کے ظاہر کرنے کے لئے طیار ہو کر آئیں اور یہ یاد رکھیں کہ یہ چندہ صرف تجارتی طور پر ہوگا۔اور ہر ایک چندہ دینے والا بقدر اپنے روپیہ کے اپنا حق اس تجارت میں قائم کرے گا اور اس کے ہر ایک پہلو پر بحث جلسہ کے وقت میں ہوگی۔یہ خیراتی چندہ نہیں ہے ایک طور کی تجارت ہے جس میں شراکت صرف دینی تائید تک ہے اس سے زیادہ کوئی امر نہیں۔والسلام۔اس امر کے متعلق خط وکتابت خواجہ کمال الدین صاحب پلیڈ ر پشاور سے کی جائے۔مشتهـ مرزا غلام احمد از قادیان ۱۵ جنوری ۱۹۰۱ء مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۴۹۴ ، ۴۹۵ طبع بار دوم )