حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 47 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 47

حیات احمد ۴۷ جلد پنجم حصہ دوم دفعہ غنودگی کی حالت طاری ہو کر ایک ایک فقرہ وحی الہی کا جیسا کہ سنت اللہ ہے زبان پر نازل ہوتا تھا اور جب ایک فقرہ ختم ہو جاتا تھا اور لکھا جاتا تھا تو پھر غنودگی آتی تھی اور دوسرا فقرہ وحی الہی کا زبان پر جاری ہوتا تھا۔یہاں تک کہ کل وحی الہی نازل ہوکر سید فضل شاہ صاحب لاہوری کی قلم سے لکھی گئی اور اس میں تفہیم ہوئی کہ یہ اس دیوار کے متعلق ہے جو امام الدین نے کھینچی ہے جس کا مقدمہ عدالت میں دائر ہے اور یہ تفہیم ہوئی کہ انجام کا راس مقدمہ میں فتح ہو گی۔چنانچہ میں نے اپنی ایک کثیر جماعت کو یہ وحی الہی سنادی اور اس کے معنے اور شانِ نزول سے اطلاع دے دی اور اخبار الحکم میں چھپوا دیا۔اور سب کو کہہ دیا کہ اگر چہ مقدمہ اب خطرناک اور صورت نومیدی کی ہے۔مگر آخر خدا تعالیٰ کچھ ایسے اسباب پیدا کر دے گا۔جس میں ہماری فتح ہوگی کیونکہ وحی الہی کا خلاصه مضمون یہی تھا۔اس کے بعد حضرت اقدس نے وہ ساری وحی الہی نقل کی ہے۔جس کے ابتدائی فقرات یہ ہیں کہ ) الرَّحَى تَدُورُ وَيَنْزِلُ الْقَضَاءُ إِنَّ فَضْلَ اللَّهِ لَاتٍ وَ لَيْسَ لَا حَدٍ أَنْ يَّرُدَّ مَا أَتَى قُلْ إِى وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقِّ لَا يَتَبَدَّلُ وَلَا يَخْفَىٰ وَيَنْزِلُ مَا تَعْجَبُ مِنْهُ وَحَى مِّنْ رَّبِّ السَّمَوَاتِ الْعُلى۔إِنَّ رَبِّي لَا يَضِلُّ وَلَا يَنْسَى۔ظَفْرٌ مُّبِينٌ وَإِنَّمَا يُؤَخِّرُ هُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى۔۔۔۔۔۔الخ ترجمہ۔چکی پھرے گی اور قضاء و قدر نازل ہو گی یعنی مقدمہ کی صورت بدل جائے گی۔جیسا کہ چکی جب گردش کرتی ہے تو وہ حصہ چکی کا جو سامنے ہوتا ہے بباعث گردش کے پردہ میں آجاتا ہے اور وہ حصہ جو پردہ میں ہوتا ہے وہ سامنے آ جاتا ہے مطلب یہ کہ مقدمہ کی موجودہ حالت میں جوصورت مقدمہ حاکم کی نظر کے سامنے ہے جو ہمارے لئے مضر اور نقصان رساں ہے صورت قائم نہیں رہے گی اور ایک دوسری صورت پیدا ہو جائے گی جو ہمارے لئے مفید ہے۔اسی طرح جو مخفی اور در پر دہ باتیں ہیں وہ