حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 46
حیات احمد ۴۶ جلد پنجم حصہ دوم کر ہمارے وکیل خواجہ کمال الدین نے ہمیں یہ بھی صلاح دی تھی کہ بہتر ہوگا کہ اس مقدمہ میں صلح کی جائے یعنی امام الدین کو بطور خود کچھ روپیہ دے کر راضی کر لیا جائے۔لہذا میں نے مجبوراً اس تجویز کو پسند کر لیا تھا۔مگر وہ ایسا انسان نہیں تھا جو راضی ہوتا اس کو مجھ سے بلکہ دین اسلام سے ایک ذاتی بغض تھا اور اس کو پتہ لگ گیا تھا کہ مقدمہ چلانے کا ان پر قطعاً دروازہ بند ہے۔لہذاوہ اپنی شوخی میں اور بھی بڑھ گیا آخر ہم نے اس بات کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیا مگر جہاں تک ہم نے اور ہمارے وکیل نے سوچا کوئی بھی صورت کامیابی کی نہیں تھی کیوں کہ پرانی مثل سے امام الدین کا ہی قبضہ ثابت ہوتا تھا۔اور امام الدین کی یہاں تک بدنیت تھی کہ ہمارے گھر کے آگے جو صحن تھا جس میں آکر ہماری جماعت کے یکے ٹھہرتے تھے وہاں ہر وقت مزاحمت کرتا اور گالیاں نکالتا تھا۔اور نہ صرف اسی قدر بلکہ اس نے یہ بھی ارادہ کیا تھا کہ ہمارا مقدمہ خارج ہونے کے بعد ایک لمبی دیوار ہمارے گھر کے دروازوں کے آگے کھینچ دے تا ہم قیدیوں کی طرح محاصرہ میں آجائیں اور گھر سے باہر نکل نہ سکیں اور نہ باہر جاسکیں۔یہ دن بڑی تشویش کے دن تھے یہاں تک کہ ہم ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ کا مصداق ہو گئے اور بیٹھے بیٹھے ایک مصیبت پیش آگئی اس لئے جناب الہی میں دعا کی گئی اور اس سے مدد مانگی گئی تب بعد دعا مندرجہ ذیل الہام ہوا۔اور یہ الہام علیحدہ علیحدہ وقت کے نہیں بلکہ ایک ہی دفعہ ایک ہی وقت میں ہوا۔مجھے یاد ہے کہ اس وقت سید فضل شاہ صاحب لاہوری برا در سید ناصر شاہ صاحب اور سیئر متعین بارہ مولی کشمیر میرے پیر دبا رہا تھا اور دوپہر کا وقت تھا کہ یہ سلسلہ الہام دیوار کے مقدمہ کی نسبت شروع ہوا۔میں نے سید صاحب کو کہا کہ یہ دیوار کے مقدمہ کی نسبت الہام ہے آپ جیسا جیسا یہ الہام ہوتا جائے لکھتے جائیں۔چنانچہ انہوں نے قلم دوات اور کاغذ لے لیا۔پس ایسا ہوا کہ ہر ایک ل التوبة: ١١٨