حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 42
حیات احمد ۴۲ جلد پنجم حصہ دوم السِّرَّ وَ مَا أَخْفَى لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يَعْلَمُ كُلَّ شَيْءٍ وَّ يَرَىٰ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ يُحْسِنُونَ الْحُسْنَى إِنَّا اَرْسَلْنَا أَحْمَدَ إِلى قَوْمِهِ فَأَعْرَضُوا وَقَالُوا كَذَّابٌ أَشِرٌّ۔وَجَعَلُوا يَشْهَدُونَ عَلَيْهِ وَيَسِيلُونَ إِلَيْهِ كَمَاءٍ مُنْهَمِرٍ۔إِنَّ حِبّى قَرِيبٌ إِنَّهُ قَرِيبٌ مستتر ترجمہ۔چکی پھرے گی اور قضا نازل ہوگی۔یقیناً خدا کا فضل آنے والا ہے اور کسی کی طاقت نہیں کہ رڈ کرے اُسے جو آ گیا۔کہہ دے ہاں میرے رب کی قسم یقیناً وہ حق ہے وہ نہ بدلے گا اور نہ مخفی رہے گا اور ایسا امر اترے گا جس سے تو اچھنبے میں رہے گا۔یہ وحی ہے بلند آسمانوں کے رب کی طرف سے۔میرا رب نہ بھٹکتا ہے نہ بھولتا ہے۔وہ فتح مبین ہوگی بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ ان لوگوں کو خدا نے ایک وقت تک ڈھیل دے رکھی ہے تو میرے ساتھ ہے اور میں تیرے ساتھ ہوں۔کہہ دے اللہ پھر اسے ( یہ اشارہ ہے ظالم دشمن کی طرف جو اضرار کا بانی ہے ) چھوڑ دے کہ تاوہ غرور اور ناز سے مٹک مٹک کر چلے وہ تیرے ساتھ ہے اور وہ جانتا ہے ستر کو اور اس سے بھی زیادہ پوشیدہ چیز کو۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ ہر شے کو جانتا اور دیکھتا ہے۔اللہ یقیناً ان کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔ہم نے احمد کو اس قوم کی طرف بھیجا آخر انہوں نے منہ پھیر لیا اور کہا یہ تو جھوٹا خود پسند ہے قوم کے لوگ اس کے خلاف شہادت دیتے اور اس کی طرف یوں دوڑتے ہیں جیسے بہنے والا پانی۔میرا محبوب قریب ہے وہ قریب ہے مگر چھپا ہوا ہے۔اسے پڑھ کر الہامی رموز کو پہچاننے والا شرح صدر سے بول اٹھتا ہے کہ یقیناً اسی طرح ذوالجلال خدا کا کلام ہے۔جس طرح قرآن کریم کی وحی اور دیگر صحف انبیاء کی وحی اُس کا کلام ہے۔کاش قوم میں حسن ظن کا مادہ ہوتا اور وہ ہماری شہادت کو اسی پایہ کی شہادت سمجھتے اور بعد میں جلیل الشان صحابہ کی شہادت جناب علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت سجھی گئی مگر افسوس بدگمانی کا گھن جو معاصی اور فسق کے دلیرانہ ارتکاب سے پیدا ہوتا ہے قوم کے ایمان کو بودا اور بالکل بے جو ہر کر گیا ہے اور وہ خدا کے مسیح کی نسبت اور ہماری نسبت وہی الفاظ منہ سے نکالتے ہیں جو کوئی گستاخ شریر منہ۔ا تذکرہ صفحه ۷ ۳۸ مطبوعه ۲۰۰۴ء (ناشر)