حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 303
حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم کامیابی ہوئی اور ہر حملہ پہلے سے زیادہ شدید اور ہر حملے کے نتیجہ میں کامیابیوں کی شان بلند ہوتی گئی۔قارئین کرام اسی کتاب میں مختلف حملوں کا ذکر پڑھ چکے ہیں اور یہ کوششیں صرف مسلمانوں کی طرف سے ہی نہیں ہوئیں دوسرے تمام مذاہب نے فرداً فرداً اور باہم مل کر نبرد آزمائی کی اور ناکامی کا منہ دیکھا۔اب اس جنگ شیطان نے ایک نیا رنگ اختیار کیا اور وہ عدالتوں میں مقدمات کا ایک لمبا سلسلہ تھا ان مقدمات کی آخری کڑی وہ مقدمات تھے جو پیر گولڑوی کے میدانِ جنگ میں آنے سے شروع ہوئے پیر گولڑوی علمی اور روحانی مقابلہ میں شکست فاش کھا چکا تھا۔اس ندامت کے دور کرنے کے لئے اس نے اپنے اعوان وانصار کے ذریعہ مقدمات کی بناڈالی۔مقدمات کا آغا قارئین کرام پڑھا آئے ہیں کہ محمد حسن فیضی ساکن بھیں ضلع جہلم نے انجاز مسیح کا جواب لکھنے کے لئے اعجاز اسی اور محترم مولوی سید محمد احسن صاحب مغفور کی کتاب شمس بازغہ پر نوٹ لکھے تھے اور محمدحسن اس پیشگوئی کے موافق جو اعجاز المسیح کا جواب لکھنے والوں کے لئے تھی ہلاک ہو گیا۔پیر گولڑی نے ان نوٹوں کو کچھ سکے دے کر لیا اور ان کی اساس پر سیف چشتیائی کے نام سے ایک کتاب لکھی ادھر مولوی کرم دین ( جو محمد حسن کا عزیز رشتہ دار تھا ) ان ایام میں اپنے بعض خوابوں کی بناء پر سلسلہ کی طرف توجہ ظاہر کرتا تھا۔اس نے اس راز کا انکشاف کر دیا اور تمام معاملہ کا جواس وقت تک پردہ راز میں تھا بھانڈا پھوڑ دیا۔اس انکشاف میں مولوی کرم دین کا ایک شاگرد شہاب الدین نامی بھی شریک تھا اور وہ بھی سلسلہ احمدیہ کی کتابیں پڑھتا تھا۔اور مولوی کرم دین کی طرح اظہارا خلاص کرتا تھا۔ان دونوں نے فرداً فردا حضرت اقدس کو انکشاف کے طور پر خطوط لکھے اور نوٹوں والی کتاب کے سودا کرا دینے کا بھی ذکر کیا۔چنانچہ حضرت حکیم فضل الدین بھیروی رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا اور انہوں نے (ع ص ) بائیس روپے پر مولوی محمد حسن فیضی کے لڑکے سے خرید لیا۔ان خطوط کا